کورونا وائرس 2019 کا مرض (COVID-19)

اگر آپ بیمار ہیں تو گھر پر ہی موجود رہیں۔ یہ دوسروں کو بیماری سے محفوظ رہنے میں مدد کرتا ہے۔

[ View information about COVID-19 in English ]

ویکسین

NYC میں COVID-19 کی ویکسین لگوانا کبھی اس سے زیادہ آسان نہیں تھا۔ اب 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد پورے شہر میں موجود ویکسینیشن سائٹس پر اپوائنٹمنٹ لیے بغیر جا سکتے ہیں۔ جن لوگوں کو کسی سائٹ پر جانے کے لیے معاونت یا دیگر موزوں سہولیات دستیاب ہوں ان کے لیے خدمات دستیاب ہیں۔

جس شخص کو مکمل ویکسین لگ چکی ہو ان کے COVID-19 کا سبب بننے والا وائرس پھیلانے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ ویکیسن لگوا لینے کے بعد ہر سرگرمی زیادہ محفوظ ہو جاتی ہے، اور زیادہ تر مواقع پر آپ کو چہرے پر نقاب پہننے یا دوسروں سے چھ فٹ کے فاصلے پر رہنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

Covid-19 ویکسینز.

ویکسین کے متعلق مزید تفصیلی معلومات، بشمول اس کے اجزاء اور یہ کس طرح تیار کی گئی اور محفوظ ثابت ہوئی، کے لیے ہمارا پیج ویکسین کے متعلق حقائق ملاحظہ کریں۔

تبدیل شدہ شکلیں/اسٹرینز

NYC اسڑینز - یعنی تبدیل شدہ شکلوں کی وہ اقسام جو کام کرنے کے انداز میں با معنی فرق کا مظاہرہ کرتی ہیں - اور یہاں رپورٹ کی گئی دیگر تبدیل شدہ شکلوں کی نگرانی کر رہا ہے۔

NYC میں لوگوں کے ٹیسٹ COVID-19 کا سبب بننے والے وائرس کی پریشان کن تبدیل شدہ شکلوں کے لیے مثبت آئے ہیں۔ یہ تبدیل شدہ شکلیں دیگر تبدیل شدہ شکلوں سے بڑھ کر قابلِ انتقال ہیں اور زیادہ شدید بیماری کا سبب بن سکتی ہیں۔

ابتدائی مطالعہ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ COVID-19 ویکسین ان تبدیل شدہ اقسام کے خلاف حفاظت کرتی ہے۔ اضافی مطالعے جاری ہیں۔

جوں جوں نیو یارک کے مزید باشندوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے، COVID-19 کا پھیلاؤ نیو یارک سٹی اور پورے امریکہ میں کم ہو رہا ہے۔ آپ ویکسین لگوا کر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ٹیسٹنگ

ٹیسٹ کب کروانا چاہیے

نیو یارک کے وہ تمام باشندے جن کو ویکسین نہیں لگی ہے ان کو ضرورت پڑنے پر (ذیل میں ملاحظہ کریں) COVID-19 کا تشخیصی ٹیسٹ کروانا چاہیے، چاہے ان میں علامات ظاہر ہوں یا نہ ہوں اور چاہے پہلے ان کا ٹیسٹ ہوچکا ہو یا نہ ہوا ہو۔ نیو یارک کے جو باشندے COVID-19 ویکسین لگوا چکے ہیں ان کو ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہے، ماسوائے کہ ان میں COVID-19 کی علامات ظاہر ہوں یا ان کو ایسا کرنا کام کے لیے، اسکول کے لیے یا کسی اور وجہ سے درکار ہو۔ آپ سے ترک وطن کی حیثیت کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔

کس کو فوری طور پر ٹیسٹ کروانا چاہیے

آپ کو جتنی جلد ممکن ہو سکے ٹیسٹ شیڈول کرنا چاہیے اگر آپ:

  • کو COVID-19 کی علامات درپیش ہیں۔
  • کسی ایسے شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے تھے جن کو COVID-19 ہے۔
  • کسی ایسے شخص کے ساتھ کم از کم 10 منٹ کے لیے 6 فٹ یا اس سے کم فاصلے میں رہے تھے جن کو COVID-19 ہے۔
  • COVID-19 کی زیادہ منتقلی والے علاقے میں رہتے یا کام کرتے ہیں۔
  • COVID-19 کی بلند شرح رکھنے والی اسٹیٹ سے واپس آئے ہیں۔
  • حال ہی میں 50 یا اس سے زیادہ افراد کے بڑے اندرون خانہ اجتماع میں گئے تھے۔

اگر ٹیسٹ کا نتیجہ منفی ہے تو اس بارے میں اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بات کریں کہ آیا اگلے ہفتے آپ کو دوبارہ ٹیسٹ کروانا چاہیے یا نہیں۔

مزید معلومات کے لیے ہمارا پیج ٹیسٹنگ ملاحظہ کریں۔

روک تھام

اپنی اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں کی COVID-19 سے حفاظت کرنے کا بہتریں طریقہ ویکسین لگوانا ہے۔ اگر آپ کو ویکیسن لگ چکی ہے تو آپ کو ذیل میں دی گئی تمام رہنمائی پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر آپ کو ویکسین نہیں لگی ہے تو آپ ہر روز چند اقدامات کر کے NYC میں COVID-19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بیمار ہوں یا حال ہی میں COVID-19 کی زد میں آئے ہوں تو گھر پر رہیں

باہر صرف COVID-19 کے ٹیسٹ، لازمی طبی نگہداشت یا دیگر لازمی امور کے لیے جائیں۔

جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں

اگر آپ کو ویکسین نہیں لگی ہے تو دوسرے لوگوں سے کم از کم چھ فٹ کے فاصلے پر رہیں۔

اپنے ہاتھوں کو صاف رکھیں

اپنے ہاتھوں کو بار بار صابن اور پانی سے دھوئیں۔ اگر صابن اور پانی دستیاب نہ ہوں تو ہینڈ سینیٹائزر استعمال کریں۔

چہرے پر نقاب پہنیں

جب آپ چہرے پر نقاب پہنتے ہیں تو اس طرح آپ خود کو مرض لگ چکا ہونے اور اس بارے میں علم نہ ہونے کی صورت میں دوسروں کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں۔ چہرے کا نقاب آپ کو مرض لگنے سے بچانے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔

آپ دو ماسک (ڈسپوزیبل ماسک کے اوپر کپڑے کا ماسک) پہن کر جو کہ اچھی طرح فٹ ہونے کو بہتر بناتا ہے اور تہوں میں اضاٖفہ کرتا ہے، بہتر تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ COVID-19 سے شدید بیماری کے خطرے سے دوچار ہوں تو اعلیٰ درجے کا ایک ہی ماسک، جیسے KN95، استعمال کرنے پر غور کریں۔

ٹیسٹ کروائیں

نیو یارک کے تمام باشندے جن کو ویکسین نہیں لگی ہے ان کو COVID-19 وائرس کا (تشخیصی) ٹیسٹ کروانا چاہیے، اس سے قطع نظر کہ آیا ان کو علامات درپیش ہیں یا نہیں یا وہ زیادہ خطرے سے دوچار ہیں یا نہیں۔

سفر سے پرہیز کریں

اگر آپ کو ویکسین نہیں لگی ہے تو سفر کرنا آپ کو اور آپ کے گرد موجود لوگوں کو بیمار پڑنے اور وائرس پھیلانے کے خطرے سے دوچار کر دیتا ہے۔ اگر سفر کرنا لازمی ہو تو ہماری رہنمائی کو پڑھ کر اور تمام تجویز کردہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے پہلے سے اس کی منصوبہ بندی کریں۔ سفر کے بعد آپ کو قرنطینہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اب بھی زیادہ تر مسافروں کو ایسا کرنے کی تجویز کی جاتی ہے۔ کچھ کارکنوں، جیسے نگہداشت صحت کے کارکنان، کے لیے سفر کے بعد کام پر لوٹنے کے لیے زیادہ سخت اصول ہیں۔

مزید معلومات کے لیے ہمار پیج روک تھام اور احتیاط ملاحظہ کریں۔

شدید بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار افراد

شدید بیماری کا مطلب یہ ہے کہ COVID-19 میں مبتلا شخص کو ہسپتال میں داخل ہونے، سانس لینے میں مدد کے لیے انتہائی نگہداشت یا وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے، حتیٰ کہ ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ شدید بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو اپنی صحت کی نگرانی کے حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

بالغ افراد میں COVID-19 سے شدید بیماری کا خطرہ عمر کے ساتھ بڑھتا ہے، جبکہ معمر افراد کو سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جو لوگ 50 کے پیٹے میں ہیں ان کو ان لوگوں کی نسبت بیماری کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے جو 40 کے پیٹے میں ہیں۔ اسی طرح 60 سال یا 70 سال کے لگ بھگ عمر کے لوگوں کو عمومی طور پر ان لوگوں کی نسبت زیادہ خطرہ ہو گا جن کی عمر 50 سال کے لگ بھگ ہے۔

عرصہ دراز سے چلی آ رہی صحت کی اور سماجی باقاعدہ غیر مساوات نے جنسی اور نسلی گروپوں کو (بشمول سیاہ فام، لاطینی اور مقامی گروپ) COVID-19 سے بیمار پڑنے اور موت کے منہ میں جانے کے بڑھے ہوئے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ مطالعات نے ظاہر کیا ہے کہ کچھ جنسی اور نسلی گروپوں کے افراد نسبتاً کم عمروں میں COVID-19 سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ غیر سفید فام افراد جب طویل دائمی طبی امراض کا شکار ہوتے ہیں تو اکثر نسبتاً کم عمر ہوتے ہیں اور ان کے ایک سے زیادہ مرض کا شکار ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔

ان بنیادی طبی امراض کے حامل کسی بھی عمر کے بالغ افراد کے COVID-19 سے شدید بیمار ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔

  • سرطان / کینسر
  • گردے کی دائمی بیماری
  • پھیپھڑوں کی دائمی بیماریاں بشمول COPD (دیرینہ امتناعی ریوی مرض، (chronic obstructive pulmonary disease، دمہ (معتعدل سے شدید نوعیت)، پھیپھڑوں کا شگافی مرض، گُچھے دار لیفیات اور ریوی صلابت شریان
  • ڈیمینشیا یا دیگر اعصابی امراض
  • ذیابیطس (ٹائپ 1 یا ٹائپ 2)
  • ڈاؤن سنڈروم
  • امراضِ قلب، جیسے حرکتِ قلب بند ہو جانا، اکلیلی شریان کی بیماری، قلبی عضلے کی تکالیف اور بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر)
  • HIV کا مرض
  • ایمیونوکمپرومائزڈ اسٹیٹ (کمزور مدافعتی نظام)
  • جگر کی بیماری
  • وزن بڑھا ہوا ہونا یا موٹاپا (25 یا اس سے زیادہ کا باڈی ماس انڈیکس)
  • حمل
  • سکل سیل بیماری یا تھیلیسیمیا
  • تمباکو نوشی، موجودہ یا سابقہ
  • اعضائے رئیسہ یا سٹیم سیل کی پیوندکاری
  • فالج یا دماغی شریانوں کی بیماری، جو دماغ کو خون کی فراہمی کو متاثر کرے
  • نشہ آور اشیاء کا استعمال (جیسے الکحل یا منشیات)

ہم COVID-19 کے بارے میں ابھی مزید جان رہے ہیں اور صحت کے دیگر مسائل بھی ہو سکتے ہیں جو شدید بیماری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ اگر آپ کو درج بالا بنیادی صحت کے عارضوں میں سے کوئی لاحق ہے یا آپ کی عمر 65 سال یا اس سے زیادہ ہے تو اپنی حفاظت کے لیے گھر میں ہی رہنے پر غور کریں۔ ممکن ہو تو گھر سے ہی کام کریں، رش والی جگہوں اور اجتماعات سے بچیں اور اگر باہر جائیں تو سماجی فاصلے اور احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کو یقینی بنائیں۔

بچے

بنیادی صحت کے عارضوں میں مبتلا بچے بھی دوسرے بچوں کے مقابلے میں شدید بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس وقت اس حوالے سے شواہد محدود ہیں کہ کون سے مخصوص امراض ہیں جن کا نتیجہ بچوں کے لیے زیادہ خطرے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ موجودہ شواہد نشاندہی کرتے ہیں کہ مندرجہ ذیل امراض میں مبتلا بچے COVID-19 سے شدید بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں:

  • دمہ یا پھیپڑوں کے دیگر دائمی امراض
  • خلقی (پیدائشی) مرضِ قلب
  • ذیابیطس
  • جنیاتی امراض
  • مدافعت کا دب جانا
  • طبی پیچیدگی
  • میٹابولک امراض
  • دماغی امراض
  • موٹاپا
  • سیکل سیل کی بیماری

CDC: شدید بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار افراد

جو افراد حمل سے ہیں

اس وقت جو کچھ ہم جانتے ہیں اس کے مطابق، جو افراد حمل سے ہیں ان کو COVID-19 سے شدید بیماری کا خطرہ زیادہ ہے بنسبت ان افراد کے جو امید سے نہیں ہیں۔ جو افراد حمل سے ہیں اور COVID-19 میں مبتلا ہیں، ان کو قبل از وقت جنم دینے اور حمل کے دیگر منفی نتائج کا بھی زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔ چند خبریں ایسے بچوں کی بھی آئی ہیں جو ممکنہ طور پر قبل از پیدائش COVID-19 میں مبتلا ہو چکے تھے، لیکن ایسا شاذونادر دکھائی دیتا ہے۔

حمل کے دوران یا بعد اپنی نگہداشت صحت کی اپوائنٹمنٹس کو نہ چھوڑیں۔ اگر آپ بیمار ہیں یا COVID-19 کی علامات (بخار، کھانسی، سانس لینے میں دقت) کا سامنا کر رہے ہیں تو آمد سے پہلے ہی متعلقہ پیدائش کی فیسیلٹی سے رابطہ کریں۔

ویکسینیں

COVID-19 ویکسینوں کو ان افراد پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا جو حمل سے ہیں یا دودھ پلا رہے ہیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اُن کو ان گروپوں کے لیے بھی اتنا ہی محفوظ ہونا چاہیے جیسے دوسروں کے لیے۔

اگر آپ حمل سے ہیں یا دودھ پلا رہے ہیں اور بارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں تو آپ ویکیسن نہ لگوانے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے اپنی صورتحال اور آیا ویکسین لگوائی جائے یا نہیں اس بارے میں سوالات ہیں تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بات کریں۔ اگر آپ حمل سے ہیں اور ویکسین لگوانے کے بعد بخار میں مبتلا ہو جائیں تو آپ کو ایسیٹومینوفین لینا چاہیے، جیسے ®Tylenol۔

اگر آپ حمل پر غور کر رہے ہیں اور ویکسین لگوانے کے لیے اہل ہیں، تو تجویز ہے کہ ویکسین لگوائیں۔

چھاتی کا دودھ پلانا

چھاتی کا دودھ پلانا ایک عالمگر وباء کے دوران اور بھی اہم ہے۔ ہنگامی صورتحالوں کے دوران نوزائیدہ اور دیگر اور بچے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں جب نوزائیدہ کا فارمولہ اور غذائی سامان کی فراہمی محدود ہوتی ہے۔

COVID-19 میں مبتلا یا COVID-19 کی علامات کے حامل افراد اپنے نوزائیدہ بچے میں وائرس منتقل کرنے سے بچنے کی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے دودھ پلا سکتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے ہمارا پیج حمل ملاحظہ کریں۔

علامات، نگہداشت

علامات وائرس کی زد میں آنے کے دو سے 14 دن بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔ مندرجہ ذیل علامات والے لوگوں کو COVID-19 ہو سکتا ہے:

  • بخار یا سردی لگنا
  • کھانسی
  • سانس پھولنا یا سانس لینے میں دشواری
  • تھکاوٹ
  • پٹھوں یا جسم میں درد
  • سر درد
  • چکھنے یا سونگھنے کی حس میں نئی کمی
  • گلے میں خراش
  • ناک بند ہونا یا بہنا
  • متلی یا الٹی
  • اسہال

COVID-19 میں مبتلا افراد نے وسیع اقسام کی علامات کی اطلاع دی ہے، ان میں ہلکی علامات سے لے کر شدید بیماری شامل ہے۔ کچھ لوگوں کو کوئی بھی علامات درپیش نہیں ہوتیں۔

اگر آپ کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور اتنے بیمار نہیں ہیں کہ ہسپتال جانا پڑے، تو COVID-19 کے لیے یک خلویہ اینٹی باڈی علاج علامات میں کمی لانے اور ہسپتال کا چکر لگنے سے بچنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔

اگر آپ کو COVID-19 ہے تو کیا کرنا چاہیے (PDF)

مدد کب حاصل کرنی چاہیے

اگر آپ میں علامات ‎‎ظاہر ہوں یا اگر آپ معمر ہوں، حمل سے ہوں یا ایسی طبی کیفیات جو آپ کو شدید بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار کر دیتی ہیں، میں مبتلا ہوں تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے رابطہ کریں۔

طبی نگہداشت کے لیے مدد کی ضرورت ہے تو 311 پر کال کریں۔ NYC میں آپ ترک وطن کی حیثیت یا ادائیگی کرنے کی استطاعت سے قطع نظر نگہداشت حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کو ان میں سے کچھ درپیش ہو تو آپ کو فوری طور پر ایمرجنسی روم جانا چاہیے یا 911 پر کال کرنی چاہیے:

  • سانس لینے میں دقت
  • سینے یا پیٹ میں مسلسل درد یا دباؤ
  • نئی الجھن یا جاگتے رہنے میں ناکامی
  • نیلے ہونٹ یا چہرہ
  • بولنے میں دشواری
  • چہرے پر اچانک لقوہ ہو جانا
  • چہرے، بازو یا ٹانگ کا سن ہو جانا
  • دورے پڑنا
  • کوئی اچانک اور شدید درد
  • بے قابو خون نکلنا
  • شدید یا مستقل قے یا اسہال

یہ ایک مکمل فہرست نہیں ہے۔ اگر آپ کو پریشانی محسوس ہو رہی ہو تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو طبی ہنگامی حالت کا سامنا ہو، فوری طور پر اپنے نگہداشتِ صحت فراہم کنندہ سے رابطہ کریں یا 911 پر کال کریں.

مزید معلومات کے لیے ہمارا پیج علامات اور نگہداشت ملاحظہ کریں۔

ذہنی صحت

COVID-19 کی عالمگیر وباء نیو یارک کے باشندوں میں تناؤ، تھکاوٹ اور بے چینی کا باعث بنی ہے۔ جبکہ آپ اپنی صحت اور کمیونٹی کا تحفظ کرتے ہیں، اپنی ذہنی صحت کا تحفظ کرنا اور اپنے الکحل اور نشہ آور مادے کے استعمال کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

آپ کو نبردآزما ہونے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے ٹولز اور معاونت دستیاب ہیں۔

روزانہ کی بنیاد پر نبردآزما ہونے کی تجاویز

  • جانیں کہ کیسے ذہنی تناؤ، صدمہ اور غم اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں:
    • جسمانی: تھکاوٹ، سر درد، دل کی تیز دھڑکن اور پہلے سے درپیش طبی عارضوں کا بگڑ جانا
    • جذباتی: اداسی، مایوسی، اضطراب، غصہ اور چڑچڑے پن کا احساس
    • ذہنی: الجھن، بھول جانا، یا توجہ مرکوز کرنے یا فیصلے کرنے میں دشواری
    • طرز عمل سے متعلق: اپنا آپ محسوس نہ کرنا، بےچینی، استدلال اور کھانے کی عادات، سونے اور نشہ آور مادے کا استعمال
  • اپنی زندگی کے ان حصوں پر توجہ دیں جو آپ کے کنٹرول میں ہیں۔ اپنے معمولات پر قائم رہیں، چہرے پر نقاب پہنیں اور جسمانی دوری پر عمل کریں۔
  • اپنے آس پاس کے معاون لوگوں اور کمیونٹیز کے ساتھ جڑے رہیں۔
  • اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ آپ کی طاقتیں کیا ہیں اور یہ کہ آپ نے کس طرح دوسرے مسائل کا نظم کیا ہے۔

کسی تربیت یافتہ پیشہ ور فرد سے بات کرنے کے لیے جو نگہداشت کے لیے معاونت اور حوالہ جات فراہم کر سکتے ہوں، NYC Well یا NY Project Hope سے رابطہ کریں۔

مزید معلومات کے لیے ہمارا پیج ذہنی صحت اور نشہ آور مادے کا استعمال