COVID-19 ویکسین کے حقائق

[ View COVID-19 vaccine facts in English ]

امریکہ میں تین COVID-19 ویکسینیں دستیاب ہیں: Pfizer-BioNTech (Pfizer)، Moderna اور Johnson & Johnson/Janssen (Johnson & Johnson)۔ یہ ویکسینیں لوگوں کو COVID-19 سے شدید بیمار پڑنے، ہسپتال داخل کیے جانے اور موت سے بچانے میں بہت محفوظ اور موثر پائی گئی ہیں۔ امریکہ میں ویکسین کی لاکھوں خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔

یہ ویکسینیں COVID-19 کے خلاف ہمارے پاس بہترین تحفظ ہیں۔ آپ کی عمر سے قطع نظر، COVID-19 اسپتال میں داخلے، طویل المدتی صحت کے مسائل اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔ چاہے آپ کو COVID-19 رہ چکا ہے تو بھی ویکسین لگوانا ضروری ہے کیونکہ یہ آپ کو دوبارہ COVID-19 ہونے کا خطرہ کم کرتی ہے اور آپ کے ذریعے اس بیماری کو دوسروں تک منتقل ہونے سے بھی روک سکتی ہے۔

نیز، ویکسین لگوانے سے آپ کے آس پاس کے لوگوں کی حفاظت ہوتی ہے، خاص طور پر ایسے افراد کی جن کو ابھی تک ویکسین نہیں لگی، جیسے کہ بچے۔ ویکسین لگوانا، روک تھام کے دیگر اقدامات کے ساتھ، COVID-19 کی صحت عامہ کی ایمرجنسی کو ختم کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔

ذیل میں ویکسین کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں، بشمول یہ کیسے کام کرتی ہیں، ویکسین کب اور کہاں سے لگوانی چاہیے، اور ویکسین لگوانے کے بعد کیا توقع رکھنی چاہیے۔

ویکسین لگوانا

اس وقت یہ اہل ہیں

12 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد ویکسینیشن کے اہل ہیں۔ 12 سے17 سال کی عمر کے افراد صرف Pfizer ویکسین ہی لگوا سکتے ہیں۔

تینوں ویکسینوں پر مطالعات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ چھوٹے بچوں کے لیے محفوظ اور موثر ہیں۔

ویکسین کہاں سے لگوائی جائے

ویکسینیں کچھ ہسپتالوں، کمیونٹی کلینکس اور فارمیسیوں، اور سٹی اور اسٹیٹ کے زیر انتظام چلنے والی ویکسینیشن سائٹس پر دستیاب ہیں۔ سٹی کے زیر انتظام چلنے والی تمام سائٹس سمیت اب اپوائنٹمنٹ کے بغیر براہ راست تشریف لا کر ویکسین لگوانے کی سہولت فراہم کر رہی ہیں، اور بہت ساری سائٹس اسی دن کی اپوائنٹمنٹ دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ یا مقامی فارمیسی سے معلوم کریں کہ کیا وہ ویکسینیشن پیش کر رہے ہیں۔

ویکسین لگوانے کی سائٹ تلاش کرنے کے لیے:

  • NYC Vaccine Finder (NYC ویکسین فائنڈر) ملاحظہ کریں۔ آپ ان چیزوں کے لحاظ سے سائٹ تلاش کر سکتے ہیں: پتہ، زپ کوڈ، اپنا موجودہ مقام، ویکسین برانڈ (Moderna ،Pfizer یا Johnson & Johnson)، رسائی کی سہولیات اور یہ کہ کیا وہاں واک-ان ویکسینیشن فراہم کی جا رہی ہے۔

  • اگر آپ کو سٹی کے زیر انتظام چلنے والی ویکسینیشن سائٹ پر اپوائنٹمنٹ لینے کے لیے مدد درکار ہو تو 877‎-829-4692 پر کال کریں اور جب کہا جائے تو 1 دبائیں۔

گھروں میں محصور، معذوری کی کے حامل، اور بزرگ افراد کے لیے رسائی

ان لوگوں کے لیے ویکسینیشن کی اپوائنٹمنٹ پر جانے اور واپس آنے کے لیے مفت ٹرانسپورٹیشن کی سہولت دستیاب ہے: NYC کے 65 سال اور اس سے زیادہ عمر کے رہائشی اور معذوری کے حامل افراد جن کے پاس ویکسینیشن سائٹ تک جانے کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔

  • Ambulette سروس کے لیے 516‎-812-9827 پر کال کریں۔
  • ٹیکسی سروس (بشمول وہیل چیئر کے ذریعے قابل رسائی گاڑیاں) کے لیے 646‎-349-0289 پر کال کریں۔

اگر آپ کی عمر 18 سال سے کم ہے تو آپ کے لیے گاڑی کے ذریعے سفر بُک کروانے کے لیے آپ کے والدین میں سے کسی ایک یا سرپرست کو آپ کے لیے کال کرنا ہو گا۔

NYC کے وہ رہائشی جو 75 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں، کسی معذوری کے حامل ہیں، یا اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے، انہیں گھر میں ہی ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔ آپ گھر پر ویکسینیشن کے لیے آن لائن سائن اپ کر سکتے ہیں۔

۔بہت سی ویکسینیشن سائٹس معذور افراد کے لیے قابل رسائی ہیں NYC Vaccine Finderیں قابل رسائی سائٹس کے لیے پتے کے ساتھ جسمانی رسائی کا آئیکن بنا ہو گا۔ علامت کے نہ موجود ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سائٹ قابل رسائی نہیں ہے، بس اس سائٹ کے لیے رسائی کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ جب بھی ممکن ہو، رسائی کے بارے میں سوالات کے لیے پیشکی کال کر کے پوچھ لیں۔

معذور کمیونٹیوں کے ویکسینیشن تک رسائی کے بارے میں عمومی سوالات کے جوابات کے لیے، میئر کا دفتر برائے معذوریوں کے حامل افراد کی ویب سائٹ دیکھیں۔

ٹرانسپورٹیشن کا انتظام کرنے یا گھر میں ویکسین لگوانے کے بارے میں سوالات یا معاونت کے لیے 877‎-829-4692 پر کال کریں۔

18 سال سے کم عمر افراد کے لیے رسائی

فی الحال ‎12-17 سال کی عمر کے افراد صرف Pfizer ویکسین ہی لگوا سکتے ہیں۔ آپ NYC COVID-19 Vaccine Finder پر Pfizer ویکسین پیش کرنے والی سائٹ تلاش کر سکتے ہیں۔ اپنے بچے کے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بھی معلوم کر لیں کہ آیا وہ یا ان سے الحاق شدہ کوئی اسپتال Pfizer ویکسین پیش کر رہا ہے۔

والدین میس سے کسی ایک یا سرپرست کو اپنے بچے کو ویکسین لگانے کے لیے رضامندی دینی ہو گی۔ رضامندی ویکسینیشن کے وقت ذاتی طور پر موجود ہو کر یا فون کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ سٹی کے زیر انتظام چلنے والی تمام سائٹس سمیت کچھ فراہم کنندگان رضامندی کا تحریری ثبوت قبول کرتے ہیں۔

اگر بچے کے پاس عمر کا ثبوت نہ ہو تو والدین میں سے کوئی ایک یا سرپرست ویکسینیشن سائٹ پر ان کی عمر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

ویکسینیشن سائٹ سے اس بات کو یقینی بنانےکے لیےمعلومات کریں کہ وہ بچوں کو ویکسین لگا رہے ہیں اور اس سائٹ کے اجازت کے طریقہ کار کے متعلق معلوم کریں۔

ویکسین لگوانے سے قبل تشخیصی / اینٹی باڈی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے

ویکسین لگوانے سے قبل آپ کو COVID-19 انفیکشن یا COVID-19 اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

جن لوگوں کو پہلے COVID-19 ہو چکا ہے ان کے لیے ویکسین لگوانا تجویز کیا جاتا ہے چاہے ان کا اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ مثبت ہی کیوں نہ ہو۔ COVID-19 کا دوبارہ ہو جانا ممکن ہے اور ویکسین لگوانا آپ کی قدرتی قوت مدافعت کو بڑھا سکتا ہے۔

ویکسین لگوانے کے لیے کسی قسم کی ادائیگی یا سوشل سیکیورٹی نمبر کی ضرورت نہیں ہے

ہر کوئی بلا معاوضہ ویکسین لگوا سکتا ہے۔ ویکسین کے لیے آپ کو اپنا سوشل سیکیورٹی نمبر فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

گر آپ کے پاس صحت بیمہ نہیں ہے تو بھی آپ سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا۔ اگر آپ کے پاس بیمہ ہے تو اپنا بیمہ کارڈ ساتھ لائیں۔ ویکسین فراہم کنندہ کی جانب سے آپ کے بیمے کو بل کیا جا سکتا ہے لیکن آپ سے ویکسین کے لیے ادائیگی میں اپنا حصہ ڈالنے یا کوئی دیگر فیس ادا کرنے کو نہیں کہا جائے گا۔

اگر کوئی آپ سے کسی قسم کی بھی فیس وصول کرنے کی کوشش کرے یا آپ کے کریڈٹ کارڈ کی معلومات طلب کرے تو یہ ممکنہ طور پر کوئی جعلسازی یا دھوکہ ہے اور آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے کہیں اور چلے جانا چاہیے۔

ویکسین کے حوالے سے دھوکہ دہی یا بدسلوکی کی آن لائن اطلاع NYS اٹارنی جنرل کو دیں ("File a Complaint" (شکایت درج کروائیں) کو منتخب کریں)۔ آپ 7226-829-833 پر کال یا stopvaxfraud@health.ny.gov پر ای میل کر کے بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

ترک وطن کی حیثیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا

COVID-19 ویکسینیں ترک وطن کی حیثیت سے قطع نظر سب لوگوں کے لیے دستیاب ہیں۔ ویکسینیشن سائٹ پر آپ سے آپ کی ترکِ وطن کی حیثیت کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔

ویکسین لگوانے سے آپ پر یا آپ کے اہل خانہ کی ترک وطن کی درخواست پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

اہلیت کا ثبوت

ویکسین لگوانے سے پہلے آپ کو نیویارک اسٹیٹ کا COVID-19 ویکسین کا فارم پُر کرنا ہوگا۔ والدین میں سے کوئی ایک یا سرپرست، یہ فارم پُر کرنے میں کم عمر فرد کی مدد کر سکتے ہیں۔

آپ کو عمر کا ثبوت بھی لانا ہو گا، جیسے ڈرائیور لائسنس یا کوئی دیگر اسٹیٹ کی جاری کردہ ID، مؤثر امریکی یا غیر ملکی پاسپورٹ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، شادی کا سرٹیفکیٹ، بیمہ حیات یا کوئی دوسری دستاویز جو آپ کی عمر ظاہر کرے۔ اگر کسی کم عمر فرد کے پاس عمر کا ثبوت نہ ہو تو ان کے والدین یا سرپرست ویکسینیشن سائٹ پر ان کی عمر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

اپنی ویکسین کی اپوائنٹمنٹ کے لیے تیاری کریں

ویکسین لگوانے پہلے آپ کو کچھ خاص تیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر گزشتہ 10 دنوں کے اندر آپ می COVID-19 کی تشخیص کی گئی ہو، COVID-19 کی کوئی علامات ظاہر ہوئی ہوں یا گزشتہ 10 دنوں COVID-19 سے میں مبتلا کسی فرد سے رابطے میں آئے ہوں تو اپنی اپوائنمنٹ کسی اور دن پر منتقل کروا لیں۔

اپنی اپوائنٹمنٹ پر جاتے ہوئے چہرے پر نقاب پہننا یاد رکھیں اور یہ چیزیں ساتھ لائیں:

  • بیمہ کارڈ (اگر آپ کے پاس یہ موجود ہے)
  • عمر کا ثبوت (ID یا کوئی اور دستاویز جس پر عمر درج ہو)
  • آپ کی اپوائنمنٹ کی تصدیق (اگر آپ نے اپوائنٹمنٹ لی ہو)
  • کم عمر فرد کی رضامندی کا فارم پُر شدہ اور دستخط شدہ (اگر آپ 18 سال سے کم عمر کے ہیں اور والدین میں سے کسی یا سرپرست کے بغیر جا رہے ہیں، اور اگر اس سائٹ پر تحریری رضامندی قابلِ قبول ہو)
  • اپنا ویکسینیشن کارڈ (صرف دوسری خوراک کی اپوائنٹمنٹس کے لیے)

ویکسینیشن کے لیے عمر کے قابلِ قبول ثبوتوں اور دیگر تقاضوں کے متعلق جانیے۔

ویکسین کس طرح لگائی جاتی ہے

COVID-19 ویکسینیں پٹھوں میں لگنے والی (انٹرا مسکولر) ویکسنیں ہیں۔ زیادہ تر دیگر ویکسینوں کی طرح، یہ بازو پر ٹیکے کے ذریعے دی جاتی ہیں۔ Pfizer اور Moderna دونوں ویکسینوں میں ہی دو خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے درمیان کئی ہفتوں کا وقفہ ہوتا ہے۔ Johnson & Johnson ویکسین کی صرف ایک خوراک درکار ہوتی ہے۔

سٹی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ ویکسین سائٹس کا دورہ کرتا ہے کہ صحت کے پروٹوکولز پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ویکسین لگائے جانے میں غلطیاں بہت کم، لیکن ہو جایا کرتی ہیں۔ CDC کی رہنمائی میں بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو ایسی ویکسین لگتی ہے جس کو زیادہ مقدار میں کچھ اور شامل کر کے پتلا نہ کیا گیا ہو، ان کو ویکیسن کی خوراک دوبارہ لگوانے کی ضرورت نہیں اگر ویکسین کو پتلا کرنے کے لیے 4.0 ml سے زیادہ مقدار نہ شامل کی گئی ہو۔ مزید معلومات کے لیے 311 پر کال کریں۔

ویکسین کا انتخاب کرنا

تینوں ہی ویکسینیں بہت محفوظ اور شدید بیماری، اسپتال میں داخل کیے جانے اور موت سے بچانے کے لیے بہت کارآمد ہیں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ویکسین لگوائی جائے۔

Pfizer اور Moderna دونوں ویکسینوں کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔ Johnson & Johnson ویکسین صرف ایک خوراک پر مشتمل ہے۔ یہ تینوں ویکسینیں ہلکے سے لے کر متعدل ضمنی اثرات پیدا کرتی ہیں۔

ویکسینوں کے مؤثر ہونے کا براہِ راست موازنہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ان کی جانچ مختلف اوقات میں اور مختلف مقامات پر کی گئی ہے۔ Johnson & Johnson کے ٹرائلز نسبتاً قریب تر ماضی میں کیے گئے تھے، تب COVID-19 کی منتقلی کی شرح بلند تر تھی، اور ان ممالک میں کیے گئے جہاں نئی پریشان کن شکلوں کی شرح بلند تھی۔ ان حالات میں بھی، اس ویکسین نے ہسپتال داخل کیے جانے اور اموات کو روکا۔

ان ویکسینوں کے درمیان ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اس وقت صرف Pfizer ویکسین 12 سے 17 سال کی عمر کے افراد کے لیے منظور شدہ ہے۔ Moderna اور Johnson & Johnson کی ویکسینیں 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے منظور شدہ ہیں۔

ایک اور فرق اس طریقے کا ہے جس سے ان ویکسینوں کو اسٹور کیا اور ترسیل کیا جا سکتا ہے۔ Johnson & Johnson ویکسین زیادہ مستحکم ہے اور اس کو ریفریجریٹر میں زیادہ دیر تک رکھا جا سکتا ہے، جس سے اس کی نقل و حمل اور ان لوگوں تک پہنچانا زیادہ آسان ہو جاتا ہے جو سفر کر کے ویکسینشن کی سائٹ تک نہیں جا سکتے۔

Johnson & Johnson ویکسین لگوانے والے لوگوں کو ایک نایاب قسم کے پلیٹلیٹس کی کم مقدار والے خون کے لوتھڑے کے کم سطح کے خطرے سے آگاہ ہونا چاہیے۔

فی الحال، زیادہ تر ویکسینیشن سائٹس پر ایک قسم کی ویکسین موجود ہے۔ آپ کو کس قسم کی ویکسین لگے گی اس کا انحصار اس چیز پر ہے کہ آپ کہاں تشریف لے کر جاتے ہیں NYC Vaccine Finderر سائٹ پر دی جانے والی ویکسین کی قسم کے متعلق بتاتا ہے۔

دوسری خوراک لینا

Pfizer اور Moderna ویکسینوں کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔ دونوں خوراکیں ایک ہی ویکسین کی ہونی چاہیئں۔ اگر آپ کو Pfizer کی ویکسین لگائی جائے تو آپ کو پہلی خوراک لگوانے کے 21 دن بعد Pfizer ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی ہو گی۔ اگر آپ کو Moderna کی ویکسین لگائی جائے تو آپ کو پہلی خوراک لگوانے کے 28 دن بعد Moderna ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی ہو گی۔ ایسا نہ کر پانے کی صورت میں آپ کو پہلی خوراک لگوانے کے بعد 42 دن کے اندر اس ہی قسم کی ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی ہو گی۔ آپ کو دوسری خوراک تجویز کیے گئے وقت سے پہلے نہیں لینی چاہیے۔

اگر آپ تجویز کردہ وقت کے دوران Pfizer یا Moderna کی دوسری خوراک نہ لگوا پائیں تو بعد میں جتنی جلدی ممکن ہو لگوا لیں۔ چاہے جتنا بھی وقت گزر چکا ہو، آپ کو پھر بھی دوسرا شاٹ لگوانا چاہیے۔ اگر آپ اپنا دوسرا ٹیکہ تجویز کردہ وقت سے پہلے یا بعد لگواتے ہیں تو بھی آپ کو کُل دو ٹیکے ہی درکار ہوں گے۔

آپ کو چاہیے کہ اپنی پہلی خوراک اور دوسری خوراک ایک ہی جگہ سے لگوائیں۔

Johnson & Johnson ویکسین کی صرف ایک خوراک درکار ہوتی ہے۔

ویکسینشن کارڈ

خود کو پہلا ٹیکہ لگوانے کے بعد آپ کو ایک کارڈ موصول ہو گا جس پر آپ کا نام، تاریخ پیدائش، آپ کو لگنے والی ویکسین کا نام؛ اور ویکسین لگنے کی جگہ ،ور تاریخ درج ہوں گے۔ آپ کا ویکسینیشن کارڈ ایک اہم طبی ریکارڈ ہے۔ اسے محفوظ مقام پر رکھیں اور اس کی فوٹو کاپی کر لیں یا تصویر لے لیں تا کہ یہ اس کے گم جانے کی صورت میں کام آئیں۔

جب آپ خود کو Pfizer یا Moderna ویکسین کا دوسرا ٹیکہ لگوانے جائیں تو اپنا ویکسینیشن کارڈ اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ اگر آپ کارڈ لانا بھول جائیں یا کارڈ گم جائے تو ویکسین فراہم کنندہ آپ کی پہلی ویکسین کی تصدیق کے لیے کمپیوٹر میں آپ کا نام تلاش کر سکتے ہیں۔

اگر آپ سے کارڈ گم ہو جائے تو آپ کے فراہم کنندہ "Citywide Immunization Registry" (شہر بھر کی ویکسینوں کی رجسٹری) سے ویکسینیشن کا ثبوت حاصل کر کے پرنٹ کر سکتے ہیں۔ رجسٹری میں NYC میں لوگوں کو ویکسین لگانے کے ریکارڈ موجود ہیں۔ اس میں NYC کے رہائشیوں کو سٹی سے باہر ویکسین لگنے کے بھی کچھ ریکارڈ موجود ہیں۔

اگر آپ کے پاس IDNYC کارڈ ہے تو آپ "My Vaccine Record" (میرا ویکسین ریکارڈ) پر اپنے ویکسین لگوانے کے ریکارڈ (اور اپنے نابالغ بچوں کے ریکارڈ) تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

ممکنہ ضمنی اثرات

زیادہ تر لوگوں نے ویکسینوں کے کچھ ضمنی اثرات کی اطلاع دی ہے، جو عام طور پر اس بات کی علامت ہیں کہ جسم میں تحفظ پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ عام ضمنی اثرات میں اس بازو میں سوزش یا سوجن جس پر ٹیکہ لگا تھا، سر درد، جسم میں درد، تھکاوٹ اور بخار شامل ہیں۔ Pfizer اور Moderna ویکسینوں کے لیے، دوسرا ٹیکہ لگوائیں چاہے پہلے ٹیکے کے بعد آپ میں ضمنی اثرات ظاہر ہوں، ماسوائے کہ آپ کا نگہداشتِ صحت فراہم کنندہ آپ کو ایسا کرنے سے منع کرے۔

ضمنی اثرات:

  • عام طور پر ہلکے سے لے کر معتدل ہوتے ہیں
  • عام طور پر ویکسین لگوانے کے بعد تین دن کے اندر شروع ہوتے ہیں (ویکسین لگوانے کے اگلے دن زیادہ عام ہیں) اور شروع ہونے کے بعد تقریبا ایک سے دو دن تک جاری رہتے ہیں
  • عمر رسیدہ افراد میں کم عام ہیں
  • Pfizer یا Moderna ویکسین کی پہلی خوراک لگوانےکے مقابلے میں دوسری خوراک لگوانے کے بعد زیادہ عام ہیں۔

آپ کو ویکسین سے COVID-19 نہیں ہو سکتا۔

ضمنی اثرات کا خیال رکھنا

ٹیکہ لگنے کی جگہ پر درد یا سوجن کو کم کرنے کے لیے، اس جگہ پر ایک صاف ستھرا، ٹھنڈا، گیلا کپڑا رکھیں اور اپنے بازو کو حرکت دیں یا اس سے ہلکی ورزش کریں۔ اگر آپ کو کوئی ایسے ضمنی اثرات کا سامنا ہے جن کے حوالے سے آپ کو تشویش ہے یا یہ کچھ دن گزرنے کے بعد ختم نہیں ہوئے، یا اگر آپ کے اس بازو میں سرخی یا سوزش 24 گھنٹوں کے بعد بڑھ گئی ہے جس پر ٹیکہ لگا تھا تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ کو کال کریں۔

درد یا تکلیف کو کم کرنے کے لیے آپ اپنے فراہم کنندہ سے بغیر نسخے کے ملنے والی ادویات استعمال کرنے کے حوالے سے بھی بات کر سکتے ہیں، جیسے کہ ایسیٹامینوفن (Tylenol) یا آئبپروفن (Advil)۔ آپ کو چاہیے کہ ویکسینیش سے قبل ان ادویات کا استعمال ضمنی اثرات سے بچنے کے ذریعے کے طور پر نہ کریں کیونکہ یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ ویکسین کی کارکردگی پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔

ضمنی اثرات کی اطلاع دینا

ضمنی اثرات کی اطلاع دینا اس حوالے سے مددگار ہوتا ہے کہ صحت عامہ کے ماہرین اس طرح ویکسین کے اثرات کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ یہ خاص طور پر نئی ویکسین کے لیے اہم ہے۔ صحت کی علامات کے متعلق رابطہ کیے جانے پر پورا اترنے اور ضمنی اثرات کی اطلاع دینے کے لیے آپ ویکسینشن کے بعد CDC کے V-safe اسمارٹ فون پر مبنی ٹول پر سائن اپ کر سکتے ہیں۔ آپ ضمنی اثرات کی اطلاع CDC اور FDA کے آن لائن یا پر ‎800-822-7967 پر کال کر کے دے سکتے ہیں۔

حفاظتی نگرانی کے یہ والے اور دیگر سسٹمز کے متعلق جانیے۔

Johnson & Johnson سے متعلق خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ

پلیٹلیٹس کی کم مقدار والے افراد میں Johnson & Johnsonیکسین سے ایک نایاب قسم کے خون کے لوتھڑے تھرومبوسس وِد تھرومبوسائیٹوپینا سنڈروم) کا خطرہ ہے۔ خون کے لوتھڑے بننے کی یہ قسم 50 سال سے کم عمر کی خواتین میں زیادہ عام ہے، لیکن یہ 64 سال اور اس سے کم عمر کے مرد و خواتین دونوں کو لا حق ہو چکی ہے۔

ویکسین لگوانے کے بعد پہلے تین ہفتے تک آپ کو خون کے لوتھڑے بننے کی ان جیسی ممکنہ علامات کے لیے اپنی نگرانی کرنا چاہیے:

  • دم گھٹنا
  • سینے میں درد
  • ٹانگ کا سوجنا
  • مسلسل پیٹ درد
  • شدید یا مسلسل سر درد
  • نظر دھندلانا
  • بلا سبب نیل پڑنا
  • انجیکشن لگوانے کی جگہ سے ہٹ کر جلد کے نیچے چھوٹے سرخ دھبے

اگر آپ کو ان میں سے کوئی علامات درپیش ہوں فوری طور پر قریبی ہسپتال چلے جائیں یا 911 پر کال کریں۔ علاج فراہم کنندہ کو بتائیں کہ آپ کو Johnson & Johnson ویکسین لگی تھی۔

اس قسم کے لوتھڑے کا تعلق Pfizer یا Moderna ویکسینوں کے ساتھ نہیں پایا گیا۔ اگر آپ کی ترجیح ہو کہ Johnson & Johnson ویکسین نہ لگوائیں تو ہم آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ Pfizer یا Moderna ویکسین لگوائیں۔

شدید الرجک رد عمل بہت کم ہیں

ویکسینوں سے شدید الرجک ردعمل بہت کم ہوتے ہیں۔

احتیاطی تدبیر کے طور پر ہر شخص کو ٹیکہ لگنے کے بعد کم از کم 15 منٹ کے لیے نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کو ماضی میں کسی بھی وجہ سے شدید الرجک ردعمل (جیسے اینافائلیکسس) ہوتے رہے ہیں، ان کو 30 منٹ کے لیے نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔

شدید الرجک ردعمل عام طور پر ٹیکہ لگوانے کے بعد چند منٹ سے ایک گھنٹے کے اندر شروع ہو جاتے ہیں۔ شدید الرجک رد عمل کی علامتوں میں سانس لینے میں دشواری، چہرے یا گلے پر سوجن، دل کی تیز دھڑکن، سارے جسم پر شدید سرخ دھبے بن جانا، چکر آنا اور کمزوری شامل ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ کو لگے کہ آپ کو شدید الرجک ردعمل کا سامنا ہے تو 911 پر کال کریں یا قریبی اسپتال میں جائیں۔


ویکسین لگوانے کے بعد

آپ کو ویکسین کا تحفظ کب حاصل ہوتا ہے

ویکیسن کے کام شروع کرنے میں وقت لگے گا۔ آپ کو Pfizer یا Moderna ویکسین کی دوسری خوراک لگنے کے یا Johnson & Johnson ویکیسن کی اکلوتی خوراک لگنے کے، دو ہفتے بعد مکمل طور پر ویکسین شدہ سمجھا جاتا ہے۔

COVID-19 کی ویکسینیں COVID-19 کے باعث ہسپتال میں داخلے اور موت سے بچانے میں بہت مؤثر ہیں۔ جن لوگوں کو مکمل طور پر ویکسین لگ چکی ہے ان میں سے زیادہ تر COVID-19 میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ تاہم، کوئی ویکسین ٪100 مؤثر نہیں ہے، اور ویکسین لگوانے والے لوگوں کی ایک کم تعداد کے ویکسینیشن کے باوجود COVID-19 میں مبتلا ہونے کا امکان ہے (اس کو "بریک تھرو کیسز" بھی کہا جاتا ہے)۔

COVID-19 ٹیسٹ کے نتائج

ویکسینوں کی وجہ سے لوگوں کا COVID-19 کا تشخیصی (وائرل) ٹیسٹ مثبت نہیں آتا۔

ویکسین لگوا لینے کے بعد اینٹی باڈی ٹیسٹ کروانے کی تجویز نہیں دی جاتی۔ اینٹی باڈی ٹیسٹ کو COVID-19 کے خلاف مدافعت یا تحفظ کا تعین کرنے کے لیے نہیں استعمال کیا جانا چاہیے، خاص طور پر کسی کے COVID-19 ویکسین لگوا لینے کے بعد۔ فی الحال منظور شدہ اینٹی باڈی ٹیسٹوں کی COVID-19 ویکسینیشن کے حوالے سے مدافعتی ردعمل سے ملنے والے تحفظ کی سطح کا تعین کرنے کی لیے جانچ نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ، کچھ اینٹی باڈی ٹیسٹ اینٹی باڈیز کی اس قسم کی جانچ نہیں کرتے جو ویکسینوں کے بعد سے بنتی ہے، لہذا منفی نتیجے کا یہ مطلب نہیں کہ ویکسین کام نہیں کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ، ہمارے جسم ویکسین سے دیگر دفاع تیار کرتے ہیں، جس میں T-خلیے (انفیکشن سے لڑنے والے خون کے خاص سفید خلیے) بھی شامل ہیں، جن کا پتا اینٹی باڈی ٹیسٹ کے ذریعے نہیں لگتا ہے۔

ویکسینیشن کے بعد آپ کیا کچھ کر سکتے ہیں

جب آپ کو مکمل ویکسین لگ چکی ہو تو آپ زیادہ تر سرگرمیاں چہرے کے نقاب یا سماجی فاصلے کے بغیر کر سکتے ہیں۔

ہم تجویز کرتے ہیں کہ جب تک مزید لوگوں کو ویکسین لگ رہی ہے آپ چار دیواری کے اندر چہرے پر نقاب پہننا جاری رکھیں۔ چہرے کے نقاب کے بغیر، کھلی فضاء میں کی جانے والی سرگرمیاں زیادہ محفوظ ہوتی ہیں۔ چہرے پر نقاب پہننا تب بھی اسکولوں میں، عوامی ٹرانسپورٹیشن پر، نگہداشت صحت کے مراکز پر اور اجتماع والی جگہوں پر، جیسے نرسنگ ہومز اور بے گھروں کے لیے پناہ گاہیں ہیں، اور کسی بھی دوسری جگہ پر جہاں کسی کاروبار کی جانب سے یا مقامی طور پر درکار ہو، درکار رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہم آپ کو تجویز کرتے ہیں کہ اگر آپ ایسے بغیر ویکسین لگے افراد کے ارد گرد موجود ہیں جو COVID-19 سے شدید بیمار پڑنے کے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں تو اپنے چہرے پر نقاب پہن کر رکھیں۔

اب آپ کو COVID-19 کا ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں، ماسوائے کہ آپ میں COVID-19 علامات ظاہر ہوں یا ٹیسٹ کروانا کام، اسکول یا کسی مخصوص سرگرمی کے لیے درکار ہو۔ آپ کو COVID-19 میں مبتلا کسی فرد سے رابطے میں آنے کے بعد قرنطینہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، تاہم اگر آپ میں COVID-19 کی علامات ظاہر ہو جائیں تو خود کو علیحدہ کر لیں اور ٹیسٹ کروائیں۔

جب آپ کو ویکسین لگ جائے اس کے بعد بھی، آپ کو اپنے ہاتھ باقاعدگی کے ساتھ دھونا چاہیے اور اگر آپ بیمار ہو جائیں یا COVID-19 کا ٹیسٹ مثبت آ جائے تو آپ کو گھر پر ہی رہنا چاہیے۔

ویکسینیشن کے فوائد کے متعلق مزید جانیں۔

طبی اور ذاتی معلومات محفوظ رکھی جاتی ہیں

آپ کی ذاتی معلومات سختی سے محفوظ رکھی جاتی ہیں۔ آپ کا سوشل سیکیورٹی نمبر نہ لیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی سے شیئر کیا جاتا ہے، اور نہ ہی تارک وطن کی حیثیت کا پتہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی یہ کسی سے شیئر کی جاتی ہے۔ شناخت صرف عمر کے ثبوت کے لیے درکار ہے۔

آپ کے بارے میں بنیادی معلومات (جیسے آپ کا نام، پتہ، فون نمبر، تاریخ پیدائش، قوم، نسلیت، ویکسین لگوانے کی تاریخ اور کون سی ویکسین لگی) NYC محکمہ صحت کے ساتھ قانون کے تقاضوں کے مطابق شیئر کی جائیں گی، لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت قوانین موجود ہیں کہ آپ کی معلومات خفیہ رکھی جائیں۔

نیویارک سٹی محکمہ صحت سے درکار کیا گیا ہے کہ یہ ویکسینیشن کا ڈیٹا CDC کو بھیجے۔ صرف لوگوں کی تاریخ پیدائش، زپ کوڈ، نسل، قومیت اور صنف کا اشتراک CDC کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہم آپ کے نام سمیت کسی اور ذاتی شناخت کی معلومات کا اشتراک نہیں کریں گے۔


ویکسین سے ملنے والا تحفظ اور اس کا موثر ہونا

کلینیکل ٹرائلز

COVID-19 کی جو ویکسینیں امریکہ میں دستیاب ہیں ان کو کلنیکل ٹرائلز کے ذریعے محفوظ پایا گیا تھا۔ ان ٹرائلز میں ہزاروں رضاکاروں پر ویکسین کو ٹیسٹ کیا جانا شامل تھا۔ اس عمل کی FDA اور دیگر اداروں نے قریب سے نگرانی کی۔

ویکسینوں کے با حفاظت ہونے کو یقینی بنانے کے لیے:

  • یہ یقینی بنانے کے لیے کہ یہ عمل اعلی ترین سائنسی اور اخلاقی معیارات پر پورا اترتا ہے، FDA نے کلینیکل ٹرائل کے پلانز اور پروٹوکولز کا جائزہ لیا۔

  • کلینیکل ٹرائلز کو دیگر گروپوں کے علاوہ، بیرونی ماہرین (طبی عملہ، اخلاقیات کے ماہرین، شماریات دان، مریضوں کے وکلا) پر مشتمل ڈیٹا سیفٹی مانیٹرری بورڈز کی جانب سے قریبی نگرانی کی گئی۔

  • FDA کے سائنس دانوں اور طبی پیشہ ور افراد نے یہ معلوم کرنے کے لیے تمام دستیاب معلومات کا جائزہ لیا کہ ویکسینوں کو منظور کیا جانا چاہئے یا نہیں۔

محفوظ ہونے کی مسلسل نگرانی

اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دینے کے لیے متعدد نگرانی کے نظام متعین ہیں کہ ویکسین کے باحفاظت ہونے سے متعلق کوئی بھی ممکنہ مسائل کی فوری شناخت کر کے ان پر تحقیقات کی جاتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

  • VAERS۔ نگہداشت صحت فراہم کنندگان سے درکار کیا جاتا ہے کہ وہ ویکسین لگنے کے بعد پریشان کن واقعات (جیسے اینافائلیکسس، ہسپتال داخل کیے جانے اور موت واقع ہونے) کو CDC اور FDA کے تحت چلنے والے قومی رپورٹنگ سسٹم، جس کو ویکسین کے منفی اثرات کی رپورٹنگ کا سسٹم (Vaccine Adverse Event Reporting System, VAERS) کہا جاتا ہے، میں رپورٹ کریں۔ لوگ خود سے بھی ضمنی اثرات یا دیگر رد عمل کی رپورٹ VAERS آن لائن پر یا ‎800-822-7967 پر کال کر کے کر سکتے ہیں۔

  • CDC۔ v-safe نے v-safe کے نام سے ایک اسمارٹ فون کا ٹول بھی بنا رکھا ہے جس کو لوگ COVID-19 ویکسین سے رد عمل ہونے کی اطلاع دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ٹول CDC کی رد عملوں کا حساب رکھنے اور ان کے واقع ہونے کی تعداد اور شدت کے متعلق مزید جاننے میں مدد کرتا ہے۔

  • ویکیسن سیفٹی ڈیٹا لنک ۔یہ نگہداشتِ صحت کے نو اداروں اور CDC کے ایمیونائزیشن سیفٹی آفس کے مابین ایک اشتراک ہے۔ نگہداشتِ صحت کے ادارے لگائی گئی ویکسینوں اور تشخیص شدہ کسی طبی مسائل کے متعلق الیکڑانک ڈیٹا آپس میں بانٹتی ہیں۔

  • سینٹینل بائیولاجکس افیکٹیونیس اینڈ سیفٹی سسٹم ۔FDA اس سسٹم کو، نگہداشتِ صحت کے کئی بڑے نظاموں کے نگہداشتِ صحت کے دعووں کے ڈیٹا بیسز اور الیکٹرانک ریکارڈز کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے، سرگرمی کے ساتھ محفوظ ہونے کے مسائل کی علامات ڈھونڈنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر نگرانی کے دوسرے سسٹمز میں سے کسی قسم کے رجحانات دکھائی دیں تو اس سسٹم کو گہرائی میں تجزیہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھنا اہم ہے کہ منفی واقعات کی تمام رپورٹس کا یہی مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی مسئلہ ہو۔ مثال کے طور پر، جب صحت کے متعلق کسی واقعے کی رپورٹ VAERS پر کی جاتی ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس واقعے کا سبب ویکسین بنی تھی۔ یہ ویکسین کے ماہرین کو ان ممکنہ واقعات کے متعلق منتبہ کرتا ہے جن پر تفتیش کیے جانے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ فقط VAERS سے ملی معلومات اکیلے یہ طے نہیں کر سکتیں کہ صحت کا کوئی مسئلہ ویکسین کے سبب واقع ہواC ۔CDC رپورٹ کردہ شدید نوعیت کے واقعات پر تحقیقات کرتا ہے اور VAERS پر رپورٹ کردہ واقعات کی شرح کا صحت کے حوالے سے ان ہی واقعات کی عوام الناس میں شرح کے ساتھ موازنہ بھی کرتا ہے ۔VAERS ۔ میں کی جانے والی کچھ اطلاعات سچ میں ویکیسن کے رد عمل ہو سکتے ہیں جبکہ ہو سکتا ہے کہ بقایا، صحت کے اتفاقیہ منفی مسائل ہوں جن کا ویکسینیشن سے کوئی تعلق نہ ہو۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی سیب کھانے کے بعد سڑک پار کر رہا ہو اور اس کو کوئی گاڑی ٹکر مار دے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے اس گاڑی سے ٹکر کھانے کا سبب وہ سیب بنا تھا۔ بالکل یہی ان اموات اور صحت کے مسائل پر لاگو ہوتا جو ان لوگوں میں واقع ہوتے ہیں جن کو ویکسین لگی ہو - اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ویکسین اس موت یا صحت کے مسئلے کا سبب بنی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹس پر یہ دیکھنے کے لیے تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے کہ آیا اس کا ویکیسن سے کوئی تعلق ہے۔

طویل مدتی تحفظ

اگر کسی ویکسین سے منفی رد عمل واقع ہونا ہو گا تو وہ عام طور پر آپ کو ویکسین لگنے کے بعد چند دنوں یا ہفتوں کے اندر واقع ہو جائے گا۔ کئی دہائیوں سے زیرِ استعمال دوسری ویکسینوں سے حاصل کردہ شواہد کی بنیاد پر، رد عمل عام طور پر ویکسین لگوانے کے دو ماہ کے اندر واقع ہوتے ہیں؛ اس کے بعد رد عمل کا امکان نہیں۔

ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کے تمام شرکاء کی دو ماہ سے زیادہ نگرانی کی گئی ہے اور ان کی نگرانی جاری ہے۔ مزید، دسمبر 2020 کے وسط میں Pfizer اور Moderna ویکسینوں کا استعمال شروع کیے جانے کے بعد سے کئی ملین افراد (اور مزید کی گنتی جاری ہے) دو ماہ سے زائد وقت پہلے ویکسینیں لگوا چکے ہیں۔ Johnson & Johnson ویکسین کو استعمال کیا جانا فروی کے آخر میں شروع ہوا اور ہم عوام الناس میں ویکسین کے استعمال کے متعلق ڈیٹا کی نگرانی جاری رکھیں گے۔ کوئی طویل مدتی اثرات نہیں پائے گئے۔

ویکسینوں کا موثر ہونا

کلینیکل ٹرائلز میں شامل صنف، عمر، نسل اور قومیت کے تمام گروپوں میں تینوں ویکسینیں بہت محفوظ اور مؤثر ہیں۔

تینوں منظور شدہ ویکسینوں کے مؤثر ہونے کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہر ویکسین کے ٹرائلز علیحدہ تھے اور وقت اور جگہ کے لحاظ سے مختلف تھے۔ ان تین ویکسینوں کو گردش کرتی مختلف تبدیل شدہ شکلوں کے خلاف اور COVID-19 کی انفیکشن کی مختلف شرحوں والی جگہوں پر بھی آزمایا گیا۔

فرٹیلیٹی (تولیدی صلاحیت)

جو افراد اس وقت حمل سے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں یا جو مستقبل میں حمل سے ہونا چاہتے ہیں، انہیں ویکسین لگوا لینی چاہیے۔ فی الوقت ایسے کوئی شواہد نہیں کہ یہ ویکسینیں عورتوں یا مردوں میں تولیدی صلاحیت کے مثائل کا سبب بنتی ہیں۔

غلط معلومات انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلی ہیں اور تولیدی صلاحیت ختم ہو جانے کے دعوے سائنس کی سمجھ نہ ہونے کی بنیاد پر ہیں۔ بہت سی دوسری ویکسینوں کی طرح، COVID-19 ویکسین ہمارے جسم کو وائرس سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز بنانا سکھا کر کام کرتی ہے۔ تولیدی صلاحیت کے متعلق خدشات اس غلط فہمی کی بنیاد پر ہیں کہ COVID-19 کی انفیکشن یا ویکسینیشن کے بعد بننے والی اینٹی باڈیز آنول (پلیسنٹا) کے ایک پروٹین پر حملہ آور ہوں گی۔ بہرحال، COVID-19 کا سبب بننے والے وائرس کا پروٹین اور آنول کا پروٹین بہت مختلف ہیں، اور ہمارے مدافعتی نظام اتنے سمجھ دار ہیں کہ ان میں فرق کر پائیں۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ اینٹی باڈیز حمل میں کسی طرح کی پریشانی، بشمول آنول کی نشونما میں مسئلے کا باعث ہوں گی۔

ویکسین COVID-19 کا سبب نہیں بن سکتی

منظور شدہ ویکسینوں میں سے کسی میں بھی COVID-19 کا سبب بننے والا وائرس نہیں ہے۔ ویکسینوں سے COVID-19 حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔


ویکسین کے اجزاء اور وہ کیسے کام کرتے ہیں

Pfizer اور Moderna ویکسینیں کس طرح کام کرتی ہیں

Pfizer اور Moderna ویکسینیں دونوں ہی میسنجر (mRNA) RNA ویکسینیں ہیں۔ mRNA ایک مالیکیول ہے جس میں پروٹین بنانے کا بلیو پرنٹ ہوتا ہے۔ یہ دستیاب ہونے والی پہلی mRNA ویکسینیں ہیں، لیکن اس ٹیکنالوجی کا 30 سال سے زیادہ عرصہ تک مطالعہ کیا گیا ہے۔

mRNA ویکسینیں اس طرح کام کرتی ہیں:

  1. mRNA کے مالیکیول جسم میں ایسی پروٹین تیار کرنے کے بارے میں ہدایات کے ساتھ جسم میں داخل ہوتے ہیں جو اس وائرس کا حصہ ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔

  2. بننے والے پروٹین جسم کو اینٹی باڈیز (خاص پروٹین جو کسی مخصوص انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں) اور دیگر دفاع بنانے کے لیے متحرک کرتی ہیں۔

  3. اس کے بعد جسم mRNA کو توڑتا اور تباہ کرتا ہے۔

  4. اگر ویکسین لگوانے کے بعد کوئی شخص COVID-19 کی زد میں آتا ہے تواس کا جسم اس وائرس کو پہچان سکے گا اور اس سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز اور دیگر دفاعی وسائل پیدا کرے گا۔

مختصرا، mRNA ایسی ای میل کی طرح ہے جو آپ کے جسم کو وائرس کی نشاندہی کرنے اور اسے ختم کرنے کے طریقے کے بارے میں ہدایات کے ساتھ بھیجی جائے۔ آپ کا جسم ان ہدایات کا استعمال کرتا ہے اور پھر ای میل کو مکمل طور پر حذف کردیتا ہے۔

mRNA کسی شخص کے DNA کے ساتھ تعامل نہیں کرتا ہے اور نہ ہی اسے تبدیل کرتا ہے۔

ویکسین کس طرح کام کرتی ہے Johnson & Johnson

Johnson & Johnson ویکسین ایک اڈینو وائرس ویکٹر ویکسین ہے۔ Johnson & Johnson کئی دہائیوں سے دوسری انفیکشنز کے لیے اڈینووائرس ویکٹر ویکسینوں پر تحقیق کرتا رہا ہے، بشمول اس کمپنی کی ایبولا ویکسین جو پہلے ہی زیر استعمال ہے۔

Johnson & Johnson ویکسین Pfizer اور Moderna کی mRNA ویکسینوں کی طرح کام کرتی ہے، لیکن یہ مدافعتی ردعمل کیے جانے کے لیے ہدایات کی فراہمی کے لیے مختلف قسم کے میسنجر کا استعمال کرتی ہے۔ Johnson & Johnson ویکسین تیار کرنے کے لیے سائنس دانوں نے وائرس سے COVID-19 کا سبب بننے والا جین لیا اور جین کو ایک اڈینو وائرس میں ڈال دیا۔ اس ویکسین میں استعمال کیا گیا اڈینو نزلہ و زکام کا سبب بنتا ہے، لیکن اس وائرس میں تبدیلی کی گئی تاکہ یہ انسانوں میں افزائش نسل نہ کر سکے یا بیماری کا سبب نہ بنے۔

Johnson & Johnson ویکسین اس طرح کام کرتی ہے:

  1. جب ویکسین آپ کے جسم میں داخل ہوتی ہے تو اڈینو وائرس, کورونا وائرس وائرس کا ایک جین انسانی خلیوں میں لے جاتا ہے جو بعد میں COVID-19 کے ایک پروٹین کی شکل اختیار کر لیتا ہے لیکن اصل وائرس کی شکل اختیار نہیں کرتا۔

  2. بننے والے پروٹین جسم کو متحرک کرتے ہیں کہ اینٹی باڈیز (خصوصی پروٹین جو کسی مخصوص انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں) اور دیگر دفاع بنائے۔

  3. اگر ویکسین لگوانے کے بعد آپ COVID-19 کی زد میں آئیں تو آپ کا جسم وائرس کو پہچان لے گا اور آپ کا مدافعتی نظام اس کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہو گا۔

Pfizer اور Moderna ویکسین کے اجزاء

Pfizer اور Moderna ویکسینوں میں ان اقسام کے اجزاء ہیں:

  • لپڈز: لپڈز چکنائی کے مالیکیول ہیں جو پانی میں تحلیل نہیں ہوتے ہیں۔ یہ mRNA کا احاطہ کر کے اس کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ آپ کے خلیوں میں جانے سے پہلے یہ ٹوٹ نہ سکے۔ شامل لپڈ کی ایک مثال پولی تھائیلین گلائکول ہے۔

  • نمکیات، ایسیٹک ایسڈ اور امائنز: یہ سب ویکسین کی pH (تیزابیت کی سطح) کو آپ کے جسم کی pH جیسا رکھ کر آپ کے خلیوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ Pfizer ویکسین میں چار نمکیات ہوتے ہیں، جن میں کھانے کا نمک بھی شامل ہے۔ Moderna ویکسین میں ایسیٹک ایسڈ (سرکہ میں تیزاب کی ایک قسم)، ایک نمک اور امونیا سے اخذ کیے گئے دو نامیاتی مرکبات ہوتے ہیں جو امائنز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

  • شوگر: شوگر لپڈز کو ایک دوسرے سے یا ویکسین کے شیشی کے اطراف جڑنے سے روکنے میں مدد دیتی ہے۔

ویکسینوں میں یہ شامل نہیں ہیں:

  • اینٹی بائیوٹکس
  • خون سے بنی مصنوعات
  • DNA
  • جنینی ٹشو اور انسانی خُلیے
  • جیلیٹن
  • گلوٹین
  • مرکری
  • مائیکرو چپس
  • سور سے بنی ہوئی یا دیگر جانوروں کی مصنوعات
  • COVID-19 کا سبب بننے والا وائرس

ویکسین (PDF) اور Moderna ویکسین (PDF) کے اجزاء کی مکمل فہرست ملاحظہ کریں۔

Johnson & Johnson ویکسین کے اجزاء

Johnson & Johnson ویکسین میں ان اقسام کے اجزاء ہیں:

  • اسٹیبلائزرز: نمکیات، الکہل، پولی سوربیٹ 80 اور ہائیڈروکلورک ایسڈ۔
  • پیداواری ضمنی مصنوعات: امینو ایسڈز۔

اس ویکسین میں یہ موجود نہیں ہیں:

  • اینٹی بائیوٹکس
  • خون سے بنی مصنوعات
  • جنینی ٹشو اور انسانی خُلیے
  • جیلیٹن
  • گلوٹین
  • مرکری
  • مائیکرو چپس
  • سور سے بنی ہوئی یا دیگر جانوروں کی مصنوعات
  • COVID-19 کا سبب بننے والا وائرس

Johnson & Johnson کے اجزاء کی مکمل فہرست ملاحظہ کریں۔

ویکسینیں کتنے عرصے تک کارگر رہتی ہیں

ہم ابھی نہیں جانتے کہ ویکسینیں لوگوں کو کتنے عرصے تک COVID-19 سے تحفظ فراہم کریں گی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہم مزید جان رہے ہیں۔ ابتدائی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ Pfizer اور Moderna ویکسینوں کا تحفظ کم از کم چھ ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس سال میں آگے جا کر ہمارے پاس ان ویکسینون اور Johnson & Johnson ویکسین کے مؤثر ہونے کے متعلق مزید معلومات آئیں گی۔

ابھی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ ویکسین ہر سال درکار ہوں گی، جیسے نزلہ زکام کا ٹیکہ، یا ایک اضافی ٹیکہ یا بوسٹر درکار ہو گا، جیسے تشنج کے ٹیکے کے ساتھ درکار ہوتا ہے۔ اضافی خوراکوں کے مؤثر ہونے کی آزمائش کے لیے مطالعات جاری ہیں۔

بیماری کی منتقلی پر اثر

ویکسینیں لوگوں کے COVID-19 وائرس کی زد میں آنے اور اس کو پھیلانے کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔

آبادی کے بیشتر حصے میں مدافعت پیدا ہونا (ہرڈ امیونٹی)

آبادی کے بیشتر حصے میں مدافعت تب پیدا ہوتی ہے جب آبادی میں کافی لوگوں میں کسی متعدی بیماری کے خلاف مدافعت (تحفظ) پیدا ہو جاتی ہے جس سے اس بیماری کے پھیلنے کا امکان نہیں رہتا۔ اس کے نتیجے میں، ان لوگوں میں میں بھی انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے جن کو ویکسین نہیں لگی ہے۔ آبادی کے بیشتر حصے میں مدافعت پیدا کرنے یا دوسرے لفظوں میں ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کے لیے کل آبادی میں سے کتنے فیصد آبادی میں مدافعت پیدا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے، اس حوالے سے مختلف بیماریوں کے لیے مختلف شرح ہے۔

COVID-19 کے لیے، ماہرین ابھی تک نہیں جان پائے ہیں کہ ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کے لیے کتنے فیصد آبادی کو ویکسین لگانا ہو گی۔ بہرحال، بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین لگانا COVID-19 سے بیمار ہونے والے، ہسپتال میں داخل ہونے والے یا اس سے انتقال کر جانے والے لوگوں کی تعداد کو کم کرے گا۔

وائرس کی نئی شکلیں/ نسلیں

وقت کے ساتھ کسی وائرس میں جینیاتی تبدیلی (بدلاؤ) ہونا اور نئی شکلیں سامنے آنا معمول کی بات ہے COVID-19۔ کا سبب بننے والے وائرس کی متعدد اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سے کچھ تبدیل شدہ شکلیں دوسروں کی نسبت زیادہ آسانی اور تیزی سے پھیلتی دکھائی دے رہی ہیں اور زیادہ شدید مرض کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کا نتیجہ ۔COVID-19 کے مزید کیسز، ہسپتال میں داخلوں اور اموات کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ان تبدیل شدہ شکلوں کی موجودگی ویکسین لگوانے کو اور بھی اہم بناتی ہےp>

توقع ہے کہ یہ ویکسینیں آج تک شناخت کی گئی مرض کی تبدیل شدہ شکلوں سے حفاظت فراہم کریں گی، لیکن ہو سکتا ہے کہ ان کا تحفظ مرض کی کچھ تبدیل شدہ شکلوں کے خلاف اتنا مستحکم نہ ہو۔ سائنس دان تاحال ان تبدیل شدہ شکلوں کے بارے میں مزید جاننے اور یہ ویکسینوں کے مؤثر ہونے پر کس طرح انداز ہوتی ہیں جاننے کے لیے، اور نئی تبدیل شدہ شکلوں کے خلاف تحفظ جاری رکھنے کے لیے ویکسین کی بوسٹر خوراکیں تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔


طبی ہسٹری اور کلینیکل تحفظات

الرجیاں

زیادہ تر الرجیاں COVID-19 ویکسینیشن کے حوالے سے تشویش کا باعث نہیں ہیں۔ اگر آپ کو ماضی میں ایسے الرجک رد عمل ہو چکے ہیں جن کا تعلق ویکسینوں یا انجیکشن کے ذریعے لگائی جانے والے دواؤں سے نہیں ہے - جیسے خوراک (بشمول انڈووں) سے، اینٹی بائیوٹکس یا منہ سے لی جانے والی دیگر دوا سے، پالتو جانوروں کے بالوں کی خشکی سے، زہر سے، دھول میں موجود کیڑوں سے، پولن سے، کائی سے، سگریٹ کے دھوئیں سے، یا لیٹیکس سے الرجیاں - یا ماضی میں آپ کے خاندان کو الرجک رد عمل ہو چکے ہیں تو آپ ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

اگر آپ کی کسی بھی چیز سے شدید الرجک رد عمل (جیسے انفیلیکسس) کی ہسٹری ہے تو ویکسین فراہم کنندہ کو آگاہ کریں تاکہ وہ آپ کی زیادہ قریب سے نگرانی کر سکیں۔

ویکسین لگوانے کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت ان الرجک ردعملوں کی ہسٹری کو مدنظر رکھنا چاہیے:

  • اگر نگہداشت فراہم کنندہ تشخیص کرے کہ آپ کو شدید الرجک ردعمل ہو رہا ہے (جیسے اینافائلیکسس) یا COVID-19 ویکسینیں میں موجود اجزاء (بشمول پولی ایتھیلین گلائیکول یا پولی سوربیٹ) میں سے کسی سے کسی بھی نوعیت کا فوری ردعمل ہو رہا ہے، یا Pfizer اور Moderna ویکسینوں کی صورت میں، COVID-19 کا پہلا ٹیکہ لگوانے کے بعد، تو آپ کو وہ ویکسین یا اس کی دوسری خوراک نہیں لگوانی چاہیے۔ آپ کا نگہداشت صحت فراہم کنندہ آپ کو الرجی اور امیونولوجی کے ماہر کے پاس مزید نگہداشت یا مشورے کی فراہمی کے لیے، یا یہ جاننے کے لیے کہ آیا آپ دوسری اقسام کی COVID-19 ویکسینوں میں سے کوئی سی لگوا سکتے ہیں یا نہیں، بھیج سکتا ہے۔

  • اگر آپ کو اس سے قبل کبھی کسی اور ویکسین یا انجیکشن کے ذریعے لگنے والی دوا سے الرجک ردِعمل ہو چکا ہے تو آیا آپ COVID-19 ویکسین لگوا سکتے ہیں یا نہیں، اس کا تعین کرنے کے لیے اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بات کریں۔

اس وقت COVID-19 میں مبتلا

اگرحال ہی میں آپ کا COVID-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے یا COVID-19 کی علامات ہیں تو آپ کو تندرست ہو جانے اور علیحدگی کی مدت مکمل کر لینے تک انتظار کرنا چاہئے تاکہ جب تک آپ متعدی ہیں تب تک ویکسین لگانے کی سائٹ پر دیگر لوگوں کے زد میں آ جانے سے بچا جا سکے۔

اس کا مطلب ہے کہ جب تک کہ درج ذیل تمام باتیں واقع نہ ہو جائیں، آپ کو ویکسین نہیں لگوانی چاہیے:

  • علامات شروع ہوئے کم از کم 10 دن گزر چکے ہیں (یا اگر آپ کو علامات نہیں تھیں تو جس تاریخ کو آپ کا ٹیسٹ ہوا تھا، اس تاریخ کے بعد کم از کم 10 دن گزر چکے ہوں)۔
  • بخار کو کم کرنے والی ادویات استعمال کیے بغیر آپ کو پچھلے 24 گھنٹوں سے بخار نہیں ہوا ہے۔
  • اگر آپ کو علامات تھیں تو اب آپ کی علامات میں بہتری آئی ہے۔

آپ علیحدگی کا دورانیہ مکمل کر لینے کے بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

اگر آپ کو اپنی Pfizer یا Moderna ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراکوں کے درمیان COVID-19 ہو جائے تو آپ پھر بھی اپنا علیحدگی کا دورانیہ ختم ہو جانے کے بعد اپنی دوسری خوراک لگوا سکتے ہیں۔ چاہے آپ کو COVID-19 ہو چکا ہو، پھر بھی خود کو دوسری خوراک لگوانا اہم ہے۔

اگر COVID-19 کے ساتھ پہلے بیمار رہ چکے ہیں

ایک سے زیادہ مرتبہ COVID-19 ہو جانا ممکن ہے۔ لہذا، اگر آپ کو پہلے COVID-19 ہو چکا ہے تو بھی آپ کو ویکسین لگوانی چاہیئں۔ نیز، ویکسین سے آپ کے جسم میں پہلے سے پیدا ہو جانے والے تحفظ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پہلے COVID-19 ہوا ہونا کسی فرد کو ویکسینوں سے شدید رد عمل ہو جانے کا سبب بنے گا۔

یک خلویہ اینٹی باڈی طریقہِ علاج

یک خلویہ اینٹی باڈی طریقہِ علاج ایک طرح کا علاج کا طریقہ ہے جس کو ڈاکٹر ان لوگوں کے لیے تجویز کرتے ہیں جن کا COVID-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہوتا ہے۔

اگر آپ یک خلویہ اینٹی باڈی طریقہِ علاج سے علاج کروا چکے ہیں تو آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے علاج کروانے کے 90 دن بعد تک انتظار کرنا چاہیے۔

اگر آپ کو ویکسین لگ چکی ہے اور پھر بعد میں COVID-19 ہو گیا تو پھر بھی اگر آپ دیگر حوالوں سے اہل ہوں توں یک خلویہ اینٹی باڈی طریقہِ علاج کروا سکتے ہیں۔

حالیہ طور پر COVID-19 کی زد میں آنا

اگر آپ حال ہی میں کسی ایسے شخص کے ساتھ قریبی رابطے (24 گھنٹے کے دورانیے میں کم سے کم 10 منٹ کے لیے 6 فٹ سے زیادہ قریب رہنا) میں آئے تھے جن کو COVID-19 ہے تو آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے آخری بار قریبی رابطے میں آنے کے بعد سے 10 دن کے لیے قرنطینہ مکمل کرنے تک انتظار کرنا چاہیے۔

اگر آپ اپنی Pfizer یا Moderna ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراکوں کے درمیان COVID-19 میں مبتلا کسی فرد کے رابطے میں آ جائیں تو آپ کو پھر بھی اپنی دوسری خوراک لگوا لینی چاہیے۔ اگر آپ کی دوسری خوراک آپ کے قرنطینہ کے عرصے کے دوران ہو تو خود کو دوسری خوراک لگوانے کو مؤخر کر دیں۔ اس کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو، آپ کو اپنی دوسری خوراک لگوا لیںی چاہیے۔

دیگر ویکسینیں

آپ اپنی COVID-19 ویکیسن دوسری ویکسین لگوانے سے پہلے، اس کے بعد یا اس ہی وقت میں لگوا سکتے ہیں۔

ہر کسی کو نزلہ زکام کی ویکسین (نزلہ زکام کے موسم سے پہلے یا اس کے دوران) اور COVID-19 کی ویکسین دونوں لگوانی چاہیے۔

حمل سے ہونا یا چھاتی کا دودھ پلا رہے ہونا

جو لوگ حمل سے ہوں یا چھاتی کا دودھ پلا رہے ہوں ان کو ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔

جو لوگ حمل سے ہیں ان میں COVID-19 ویکسین کے تحفظ کے بارے میں بہت کم ڈیٹا ہے، کیونکہ جو لوگ حمل سے ہوں وہ کلینیکل ٹرائلز کا حصہ نہیں تھے، سوائے ان چند لوگوں کے جو حمل سے تھے اور انھیں اس کا علم نہیں تھا یا بعد میں حمل سے ہوئے تھے۔ بہرحال، موجودہ معلومات کی بنیاد پر، ماہرین کا ماننا ہے کہ منظور شدہ ویکسینوں سے زیر حمل فرد یا فیٹس کو کوئی خطرہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔ جو لوگ امید سے ہیں اور COVID-19 ویکسین لگوا رہے ہیں، CDC اپنے v-safe ٹول کے ذریعے ان کے متعلق ڈیٹا اکٹھا کر رہا ہے۔ ابتدائی ڈیٹا زیرحمل فرد یا فیٹس کو خطرہ ہونا ظاہر نہیں کرتا۔

چھاتی کا دودھ پلانے والے جن افراد نے COVID-19 ویکسینیں لگوائیں ان سے حاصل کردہ شروع کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ ان کی پیدا کردہ اینٹی باڈیز ان کے چھاتی کے دودھ کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہیں۔ یہ جاننے کے لیے اضافی مطالعہ درکار ہے کہ آیا یہ اینٹی باڈیز بچوں کو وائرس کے خلاف کسی درجے کا تحفظ فراہم کریں گی یا نہیں۔

CDC ایڈوائزری کمیٹی آن امیونائزیشن پریکٹیسز کے مطابق، چیچک اور زرد بخار کی ویکسینوں کو چھوڑ کر، دودھ پلانے کے دوران دی گئی ویکسینیں چھاتی کا دودھ پلانے کے، والدین یا بچے کے لیے باحفاظت ہونے پر اثر انداز نہیں ہوتی ہیں۔

اگر آپ حاملہ ہونے کی کوشش کر رہی ہیں تو آپ ویکسین لگوا سکتی ہیں اور آپ کو ویکسین لگوانے کے بعد حمل سے بچنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر آپ امید سے ہیں یا چھاتی یا سینے کا دودھ پلاتے ہیں، تو ویکسینیش پر اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بات کرلینا مددگار ہو گا۔ بہرحال، آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے نگہداشت فراہم کنندہ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

میموگرام

اگر آپ کا میموگرام ہونے کا وقت آ گیا ہے اور آپ کو حال ہی میں COVID-19 کی ویکیسن لگی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے معلوم کریں کہ آپ کو ویکسینیشن کے بعد میموگرام کروانے کے لیے کتنے عرصے تک انتظار کرنا چاہیے۔

COVID-19 ویکسین ٹیکہ لگنے کی جگہ کے نزدیک بغل میں لمف نوڈز میں سوجن کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ سوجن اس بات کا معمول کا اشارہ ہے کہ آپ کا جسم COVID-19 کے خلاف تحفظ پیدا کر رہا ہے، لیکن یہ میموگرام میں ایک غلط ریڈنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ کچھ ماہرین ویکسین لگوانے سے قبل میموگرام کروا لینا، یا ویکسین لگوانے کے بعد چار سے چھ ہفتوں کے لیے اپنی اسکریننگ کو مؤخر کرنا تجویز کرتے ہیں۔

آٹو امیون بیماری / کمزور مدافعتی نظام (امیونوکمپومائزڈ ) اور بنیادی عوارض

وہ لوگ جنھیں آٹو امیون بیماری ہے یا ان کا مدفعتی نظام کمزور ہے (جیسے کینسر کے علاج یا کسی دوسری دوا کی وجہ سے) وہ ویکسین لگوانے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ تاہم، وہ لوگ جن کا مدفعتی نظام کمزور ہے وہ کلینیکل ٹرائلز کا حصہ نہیں تھے، لہذا اس گروپ کے لیے ویکسین کے تحفظ حفاظت یا اس کے موثر ہونے سے متعلق کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

بیلز پالسی (چہرے کا فالج)

کلینیکل ٹرائلز کے دوران تینوں منظور شدہ ویکسینوں میں سے کوئی ایک ویکسین لگوانے والے دسیوں ہزار افراد میں سے کچھ کو بیلز پالسی (چہرے کا فالج) ہوا۔ بہرحال، کلینیکل ٹرائلز کے دوران دیکھی جانے والی بیلز پالسی کی شرح عام آبادی میں متوقع شرح سے زیادہ نہیں تھی۔

جن لوگوں کو پہلے کبھی بیلز پالسی ہو چکا ہو انکو ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔ اگر آپ کو بیلز پالسی ہو چکا ہے اور ویکسین لگوانے کے بارے میں سوالات ہیں تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بات کریں۔

دیگر طبی کیفیات اور ادویات

متعدد طبی کیفیات ایسی ہیں جو لوگوں کو COVID-19 منتقل ہو جانے پرشدید بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار کری دیتی ہیں اور COVID-19 ویکسین لگوانے کو خاص طور ہر اہم بنا دیتی ہیں۔ کلینیکل ٹرائلز کے بہت سے شرکاء کو صحت کے بنیادی عارضے لاحق تھے اور ویکسین ان کے لیے محفوظ اور مؤثر رہی تھی۔ کسی بھی طبی کیفیت کے حامل لوگ ویکسین لگوا سکتے ہیں جب تک کہ انہیں COVID-19 ویکسین یا اس کے اجزاء سے کچھ مخصوص الرجک ردعمل نہ ہو چکے ہوں۔

مزید یہ کہ ویکسین لگوانے کے لیے لوگوں کو کسی قسم کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر آپ کو بنیادی صحت کے کسی طبی عارضےٓ یا کسی دوا کے بارے میں خدشات ہوں تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ کے ساتھ ویکسین لگوانے کے بارے میں بات کریں۔


ویکسین کی تیاری اور منظوری

تیاری اور ٹیسٹنگ

COVID-19 ویکسینیں تیاری کے انہی مراحل سے گزریں جن سے دیگر ویکسینیں گزرتی ہیں: ان کو لیبارٹری میں تیار اور ٹیسٹ کیا گیا اور پھر یہ کلینیکل ٹرائلز کے مرحلے سے گزریں جس کی امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) قریب سے نگرانی کر رہا تھا۔

کلینیکل ٹرائلز میں ویکسین کو یہ جاننے کے لیے لوگوں پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ آیا یہ محفوظ اور موثر ہے۔ ہر COVID-19 ویکسین کو مختلف صنف، عمر، نسل اور قومیت کے ہزاروں افراد پر ٹیسٹ کیا گیا تھا جنہوں نے کلینیکل ٹرائلز میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیا تھا۔

تیاری کا تاریخ وار دورانیہ

ویکسین کو جلد از جلد دستیاب بنانے کے لیے COVID-19 ویکسینوں کی تیاری میں جتنے وسائل لگے ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ویکسینوں کی تیاری میں اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں اور دنیا بھر سے سیکڑوں سائنس دان ویکسینیں تیار کرنے پر مسلسل کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سائنسدانوں نے دیگر ویکسینوں پر کی کئی سالوں کی تحقیق کو بھی استعمال کیا، جس میں دیگر کورونا وائرسوں کے لیے ویکسینیں بھی شامل ہیں۔

وفاقی حکومت نے ایک ہی وقت میں ویکسینوں کی تیاری، ٹیسٹنگ اور پروڈکشن کیے جانے کے لیے خصوصی فنڈنگ فراہم کی۔ اس وجہ سے کمپنیاں استعمال کے لیے مجاز ہونے سے قبل ہی ویکسین تیار کرنا شروع کر پائیں۔ وفاقی حکومت، اسٹیٹ اور مقامی محکمہ صحت اور نگہداشت صحت فراہم کنندگان مہینوں سے اسٹوریج، تقسیم، فراہمی اور رسد کے دیگر منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جیسے ہی ویکسینوں کے استعمال کی منظوری ملے، ان کی فراہمی اور انہیں لگانے کا کام شروع کر دیا جائے۔

ہنگامی استعمال کی اجازت

ایمرجنسی کی صورت میں، FDA ہنگامی استعمال کی اجازت (EUA) کے ذریعے ویکسینوں کے ساتھ ساتھ ٹیسٹوں اور دیگر علاج کے استعمال کی اجازت دے سکتا ہے۔ Pfizer، Moderna اور Johnson & Johnson ویکسینوں میں سے ہر ایک کو EUA جاری کر دیا گیا ہے۔

EUA حاصل کرنے والی تمام ویکسینوں کو انہی کلینیکل ٹرائلز سے گزرنا ہوتا ہے جن سے دیگر ویکسینیں گزرتی ہیں۔ FDA صرف اس وقت ہی EUA دے سکتی ہے جب ٹھوس شواہد موجود ہوں کہ ویکسین لگوانے کے فوائد مریضوں کو درپیش کسی قسم کے خطرات سے کہیں زیادہ ہوں۔

FDA یہ بھی توقع کرتا ہے کہ جن مینوفیکچرروں کی COVID-19 ویکسینوں کو EUA کے تحت منظوری دی گئی ہے، وہ اضافی تحفظ اور مؤثر ہونے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے، کلینیکل ٹرائلز جاری رکھیں گے، اور منظوری (لائسنس) کے لیے درخواست دیں گے۔ Pfizer نے 16 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کے استعمال کے لیے ان کی ویکسین کو لائسنس جاری کیے جانے کے لیے درخواست دے دی ہے۔ Moderna اور Johnson & Johnson جو کہ بعد میں دستیاب ہوئیں، ابھی تک ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہیں۔


اضافی وسائل