COVID-19 ویکسین کے حقائق

No image, bold text reads: COVID-19 vaccines save lives. Get vaccinated.

[ View COVID-19 vaccine facts in English ]

ویکسین کے حقائق COVID-19

امریکہ میں تین COVID-19 ویکسینیں دستیاب ہیں: Moderna ،Pfizer-BioNTech (Pfizer) اور Johnson & Johnson/Janssen (Johnson & Johnson)۔ یہ ویکسینیں محفوظ اور بہت مؤثر ہیں، خاص طور پرCOVID-19 سے شدید بیمار پڑنے، ہسپتال میں داخل کیے جانے اور موت سے بچائے رکھنے میں۔ امریکہ میں ویکسین کی دسیوں کروڑ خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔

یہ ویکسینیں COVID-19 کے خلاف ہمارے پاس بہترین تحفظ ہیں۔ آپ کسی بھی عمر کے یا کتنے ہی صحت مند کیوں نہ ہوں، COVID-19 ہسپتال میں داخل کیے جانے، صحت کے طویل مدتی مسائل اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔ آپ کو COVID-19 ہو چکا ہو تو بھی ویکسین لگوانا اہم ہے کیونکہ یہ آپ کو دوبارہ COVID-19 ہونے کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ ویکسین لگوانا آپ کے ارد گرد موجود افراد کا تحفظ کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کو ویکسین نہیں لگائی جا سکتی، جیسے 5 سال سے کم عمر کے بچے۔

ویکسین لگوانا

موجودہ طور پر اہل

5 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد ویکسین لگوانے کے لیے اہل ہیں.

تینوں ویکسینوں پر یہ دیکھنے کے لیے مطالعات جاری ہیں کہ کیا یہ اس سے چھوٹے بچوں کے لیے محفوظ اور مؤثر ہیں۔

ویکسین کہاں سے لگوائی جائے

آپ کئی ہسپتالوں، کمیونٹی کلینیکوں اور فارمیسیوں سے اور سٹی اور ریاست کے زیرِ انتظام چلائی جانے والی ویکسینیشن سائٹس سے ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ سٹی کے زیر انتظام چلنے والی تمام سائٹس سمیت کئی سائٹس اب اپوائنٹمنٹ کے بغیر براہ راست تشریف لا کر ویکسین لگوانے کی سہولت فراہم کر رہی ہیں، اور بہت ساری سائٹس اسی دن کی اپوائنٹمنٹ دے رہی ہیں۔ آپ اپنے نگہداشت صحت فراہم

ویکسینیشن سائٹ تلاش کرنے کے لیے:

  • NYC Vaccine Finder (NYC ویکسین فائنڈر) پر جائیں۔
  • آپ کو سٹی کے زیر انتظام چلنے والی کسی ویکسینیشن سائٹ پر اپوائنٹمنٹ لینے کے لیے مدد درکار ہو تو 877‎-829-4692 پر کال کریں اور جب کہا جائے تو 1 دبائیں۔
  • NYC کے رہائشیوں کو گھر پر بھی مفت ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔ آپ آن ل ائن یا ‎877-829-4692 پر کال کر کے سائن اپ کر کتے ہیں‎ گھر پر ویکسین لگائے جانے کے متعلق مزید جانیں۔س

گھر سے باہر نکلنے سے قاصر افراد، معذور افراد اور معمر افراد کے لیے رسائی

NYC کے 65 سال اور اس سے زیادہ عمر کے رہائشیوں اور ایسے معذور افراد جن کے پاس ویکسینیشن سائٹ تک جانے کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اُن کے لیے ویکسینیشن کی اپوائنٹمنٹ پر جانے اور واپس آنے کے لیے مفت ٹرانسپورٹیشن کی سہولت دستیاب ہے۔

NYC کے تمام رہائشیوں کو گھر پر بھی ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔ آپ گھر پر ویکسین لگوانے کے لیے آن لائن سائن اپ یا ‎877-829-4692 پر کال کر سکتے ہیں۔

بہت سی ویکسینیشن سائٹس معذور افراد کے لیے قابل رسائی ہیں۔ NYC Vaccine Finder میں قابل رسائی سائٹس کے لیے پتے کے ساتھ جسمانی معذوروں کے لیے قابل رسائی ہونے کا آئیکن بنا ہو گا۔ علامت کے موجود نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سائٹ قابل رسائی نہیں ہے، بس اس سائٹ کے لیے رسائی کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ جہاں ممکن ہو، اگر رسائی کے حوالے سے آپ کے کوئی سوالات ہوں تو پہلے کال کر لیں۔

ویکسینیشن تک رسائی کے بارے میں معذور کمیونٹیوں کے ممکنہ عمومی سوالات ک جوابات کے لیے میئر کا دفتر برائے معذوریوں کے حامل افراد کی ویب سائٹ دیکھیں۔

ٹرانسپورٹیشن یا گھر پر ویکسین لگوانے کا انتظام کرنے کے بارے میں سوالات یا معاونت کے لیے ‎877-829-4692 پر کال کریں۔

18 سال سے کم عمر افراد کے لیے رسائی

فی الحال ‎5 سے 17 سال کی عمر کے افراد صرف Pfizer ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ آپ NYC Vaccine Finder پر جا کر Pfizer ویکسین پیش کرنے والی سائٹ تلاش کر سکتے ہیں۔ اپنے بچے کے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بھی معلوم کریں کہ کیا وہ ویکسینیشن پیش کر رہے ہیں۔

والدین میں سے کسی ایک یا سرپرست کو اپنے بچے کو ویکسین لگائے جانے کے لیے رضامندی فراہم کرنا ہو گی۔ رضامندی ویکسینیشن کے وقت ذاتی طور پر موجود ہو کر یا فون کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ سٹی کے زیر انتظام چلنے والی تمام سائٹس سمیت کچھ فراہم کنندگان رضامندی کا ثبوت تحریری طور پر قبول کرتے ہیں۔ 5 سے 15 سال کے بچوں کے ویکسینیشن سائٹ (ماسوائے اسکولوں میں قائم مراکزِ صحت) پر جاتے وقت ایک نامزد بالغ فرد کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔

اگر بچے کے پاس عمر کا ثبوت نہ ہو تو ویکسینیشن سائٹ پر والدین میں سے کوئی ایک یا سرپرست ان کی عمر کی تصدیق کر سکتے ہیں

ویکسینیشن سائٹ سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے معلوم کریں کہ وہ بچوں کو ویکسین لگا رہے ہیں اور اس سائٹ کا رضامندی حاصل کرنے کا طریقہِ کار کیا ہے۔

ویکسین لگوانے سے قبل تشخیصی/اینٹی باڈی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے

ویکسین لگوانے سے قبل آپ کو COVID-19 انفیکشن یا COVID-19 اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

جن لوگوں کو پہلے COVID-19 ہو چکا ہے ان کے لیے ویکسین لگوانا تجویز کیا جاتا ہے چاہے ان کا اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ مثبت ہی کیوں نہ ہو۔ COVID-19 کا دوبارہ ہو جانا ممکن ہے اور ویکسین لگوانا آپ کی قدرتی قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے۔

ویکسین لگوانے کے لیے کسی قسم کی ادائیگی یا سوشل سیکیورٹی نمبر کی ضرورت نہیں

ویکسین لگوانا سب کے لیے مفت ہے۔ اگر آپ کے پاس صحت بیمہ نہیں ہے تو بھی آپ سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا۔ اگر آپ کے پاس بیمہ ہے تو اپنا بیمہ کارڈ ساتھ لائیں۔ ویکسین فراہم کنندہ آپ کے بیمے میں سے بل وصول کر سکتا ہے لیکن آپ سے ویکسین کے لیے ادائیگی میں اپنا حصہ ڈالنے یا کوئی دیگر فیس ادا کرنے کو نہیں کہا جائے گا۔ ویکسین لگوانے کے لیے آپ کو اپنا سوشل سیکیورٹی نمبر فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کوئی بھی آپ سے فیس وصول نہیں کرے گا یا آپ سے آپ کے کریڈٹ کارڈ کی معلومات یا سوشل سیکیورٹی نمبر نہیں مانگے گا۔ اگر کوئی ایسا کرے تو یہ ممکنہ طور پر دھوکہ دہی یا فراڈ ہے اور آپ کو چاہیے کہ ویکسین لگوانے کے لیے کسی دوسری جگہ چلے جائیں۔

ویکسین کے حوالے سے فراڈ یا بدعنوانی کی آن لائن اطلاع NYS اٹارنی جنرل کو دیں ("File a Complaint" (شکایت درج کروائیں) کا انتخاب کریں)۔ آپ 833‎-829-7226 پر کال یا stopvaxfraud@health.ny.gov پر ای میل کر کے بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

ترک وطن کی حیثیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا

COVID-19 ویکسینیں ترک وطن کی تمام حیثیتوں کے افراد کے لیے دستیاب ہیں۔ ویکسینیشن سائٹ پر آپ سے آپ کی ترکِ وطن کی حیثیت کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔

ویکسین لگوانے سے آپ پر یا آپ کے اہل خانہ کی ترک وطن کی درخواست پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

اہلیت کا ثبوت

ویکسین لگوانے سے پہلے آپ کو نیویارک اسٹیٹ کا COVID-19 ویکسین کا فارم پُر کرنا ہوگا۔ والدین میں سے کوئی ایک یا سرپرست، یہ فارم پُر کرنے میں کم عمر فرد کی مدد کر سکتے ہیں۔

آپ کو عمر کا ثبوت بھی لانے کی ضرورت ہو گی، جس میں یہ شامل ہو سکتے ہیں:

  • ڈرائیور کا لائسنس یا ریاست کی جاری کردہ کوئی اور ID
  • مؤثر امریکی یا غیر ملکی پاسپورٹ
  • پیدائش کا سرٹیفکیٹ
  • شادی کا سرٹیفیکیٹ
  • زندگی کی بیمہ پالیسی
  • تاریخِ پیدائش ظاہر کرنے والی کوئی اور دستاوی

اگر کسی کم عمر فرد کے پاس عمر کا ثبوت نہ ہو تو ان کے والدین یا سرپرست ویکسینیشن سائٹ پر ان کی عمر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

طبی اور ذاتی معلومات کی حفاظت کی جاتی ہے

آپ کی ذاتی معلومات کی سخت حفاظت کی جاتی ہے۔ آپ کا سوشل سیکیورٹی نمبر نہ لیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی سے شیئر کیا جاتا ہے، اور نہ ہی تارک وطن کی حیثیت کا پتہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی یہ کسی سے شیئر کی جاتی ہے۔ شناخت صرف عمر کے ثبوت کے لیے درکار ہے۔

قانون کے تقاضے کے مطابق، آپ کے بارے میں بنیادی معلومات (جیسے آپ کا نام، پتہ، فون نمبر، تاریخ پیدائش، نسل، قومیت، ویکسین لگوانے کی تاریخ اور کونسی ویکسین لگی) محکمہ صحت کے ساتھ بانٹی جائیں گی۔ آپ کی معلومات کے خفیہ رہنے کو یقینی بنانے کے لیے سخت قوانین نافذ العمل ہیں۔

محکمہ صحت سے درکار کیا گیا ہے وہ ویکسینیشن کا ڈیٹا CDC کو بھیجے۔ صرف لوگوں کی تاریخ پیدائش، زپ کوڈ، نسل، قومیت اور صنف کی معلومات CDC کے ساتھ بانٹی جاتی ہیں۔ ہم آپ کے نام سمیت ذاتی شناخت کی کوئی اور معلومات نہیں بانٹیں گے۔

اپنی ویکسینیشن کی اپوائنٹمنٹ کے لیے تیاری کریں

ویکسین لگوانے سے پہلے آپ کو کچھ خاص تیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر گزشتہ 10 دنوں کے اندر آپ میں COVID-19 کی تشخیص کی گئی ہو، COVID-19 کی کوئی علامات ظاہر ہوئی ہوں یا آپ COVID-19 میں مبتلا کسی فرد سے رابطے میں آئے ہوں تو اپنی اپوائنٹمنٹ کسی اور دن پر منتقل کروا لیں۔

ماسک پہننا یاد رکھیں اور یہ اشیاء ساتھ لائیں:

  • بیمہ کارڈ اگر آپ کے پاس ہے
  • عمر کا ثبوت (ID یا کوئی اور دستاویز جس پر عمر درج ہو)
  • کم عمر فرد کی رضامندی کا فارم پُر شدہ اور دستخط شدہ (اگر آپ 18 سال سے کم عمر کے ہیں اور والدین میں سے کسی یا سرپرست کے بغیر جا رہے ہیں، اور اگر اس سائٹ پر تحریری رضامندی قابلِ قبول ہو)
  • اگر آپ کو دوسری، تیسری یا بوسٹر خوراک لگ رہی ہے تو اپنا ویکسینیشن کارڈ

دوسری خوراک لگوانا

Pfizer اور Moderna ویکسینوں کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔ دونوں خوراکیں ایک ہی ویکسین کی ہونی چاہیے۔ اگر آپ کو Pfizer کی ویکسین لگائی جائے تو آپ کو پہلی خوراک لگوانے کے 21 دن بعد Pfizer ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی ہو گی۔ اگر آپ کو Moderna کی ویکسین لگائی جائے تو آپ کو پہلی خوراک لگوانے کے 28 دن بعد Moderna ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی ہو گی۔

اگر آپ تجویز کردہ وقت کے دوران Pfizer یا Moderna کی دوسری خوراک نہ لگوا پائیں تو بعد میں جتنی جلدی ممکن ہو لگوا لیں۔ چاہے جتنا بھی وقت گزر چکا ہو، آپ کو پھر بھی دوسرا ٹیکہ لگوانا چاہیے۔ آپ کو دوسری خوراک تجویز کیے گئے وقت سے پہلے نہیں لگوانی چاہیے۔

Johnson & Johnson ویکسین کی صرف ایک خوراک درکار ہوتی ہے۔

تیسری خوراک اور بوسٹر ٹیکے

درجِ ذیل افراد اب Pfizer ویکسین کا بوسٹرٹیکہ لگوانے کے اہل ہیں، اگر ان کو Pfizer ویکسین کی دو خوراکیں کم از کم چھ ماہ قبل لگی تھیں:

  • 65 سال یا زائد عمر کے افراد
  • 18 سے 64 سال کی عمر کے وہ افراد جن کو یا تو کوئی بنیادی صحت کا عارضہ لاحق ہے یا وہ اپنے کام کی نوعیت (مثلاً نگہداشت صحت کے کارکنان) یا جہاں وہ رہتے یا اکثر جاتے ہیں (مثلاً بے گھر افراد کی پناہ گاہ) کے باعث COVID-19 کی زد میں آنے کے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں
  • کسی نرسنگ ہوم یا طویل مدتی نگہداشت کے مرکز میں رہنے والے افراد

آپ صرف اس صورت میں Pfizer کا بوسٹر ٹیکہ لگوا سکیں گے کہ اگر آپ کو Pfizer کی دوسری خوراک کم از کم چھ ماہ قبل لگی ہو۔ اس پابندی سے کوئی مستثنیٰ نہیں ہے۔

اس ٹیکے کا مقصد بہت سے لوگوں کی شروع کی ویکسین کے سلسلے سے حاصل شدہ مامونیت میں اضافہ کرنا ہے جس کے وقت گزرنے کے ساتھ کم ہو چکے ہونے کا امکان ہے۔

بوسٹر ٹیکوں کے علاوہ، کچھ لوگ جو معتدل سے شدید حد تک امیونوکمپرومائزڈ ہیں (یعنی ان کا مدافعتی نظام کمزور ہے) انہیں دو خوراک کے معیاری طریقہ کار کی بجائے Pfizer یا Moderna کی COVID-19 ویکسین کی تین خوراکیں لگنی چاہیئں

ان عارضوں اور علاجوں کی مثالیں یہ ہیں:

  • کینسر کا جاری علاج
  • کسی اعضاء کی پیوند کاری کروائی ہے اور امیونوسوپریسیو تھراپی کروا رہے ہیں
  • پچھلے دو سالوں میں اسٹم سیل ٹرانسپلانٹ کروایا ہے
  • معتدل یا شدید پرائمری امیونوڈیفیشنسی (بنیادی مدافعت کی کمی)
  • ایڈوانسڈ یا غیر علاج شدہ HIV
  • کورٹی کوسٹیرائڈز یا دیگر ادویات کی زیادہ خوراک پر مبنی فعال علاج جو آپ کے مدافعتی نظام کو معتدل یا شدید طور پر کمزور کرتا ہے

یہ مکمل فہرست نہیں ہے۔ اگر آپ ان میں سے کسی کیفیت میں مبتلا ہیں یا ایسی دوائیں استعمال کر رہے ہیں جو آپ کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہیں تو تیسری خوراک لگوانے کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔

ویکسینشن کارڈ

خود کو پہلا ٹیکہ لگوانے کے بعد آپ کو ایک کارڈ موصول ہو گا جس پر آپ کا نام، تاریخ پیدائش، آپ کو لگنے والی ویکسین کا نام؛ اور ویکسین لگنے کی جگہ اور تاریخ درج ہوں گے۔ آپ کا ویکسینیشن کارڈ ایک اہم طبی ریکارڈ ہے۔ اسے محفوظ مقام پر رکھیں اور اس کی فوٹو کاپی کر لیں یا تصویر لے لیں تا کہ یہ اس کے گم جانے کی صورت میں کام آئیں۔

Pfizer یا Moderna ویکسین کی دوسری خوراک کے لیے جاتے وقت یا تیسری خوراک یا بوسٹر ٹیکے کے لیے جاتے وقت اپنا ویکسینیشن کارڈ ساتھ لائیں۔ اگر آپ کارڈ لانا بھول جائیں یا کارڈ گم جائے تو ویکسین فراہم کنندہ آپ کی پہلی خوراک یا خوراکوں کی تصدیق کے لیے آپ کے نام کے ذریعے تلاش کر سکتے ہیں۔

اگر آپ سے کارڈ گم ہو جائے تو آپ کے فراہم کنندہ"Citywide Immunization Registry" (شہر بھر کے مدافعتی عمل کا اندراج) سے ویکسینیشن کا ثبوت حاصل کر کے پرنٹ کر سکتے ہیں۔ رجسٹری میں NYC میں لوگوں کو ویکسین لگانے کے ریکارڈ موجود ہیں۔ اس میں NYC کے رہائشیوں کو سٹی سے باہر ویکسین لگنے کے بھی کچھ ریکارڈ موجود ہیں۔

آپ "My Vaccine Record" (میرا ویکسین کا ریکارڈ) پر اپنے ویکسین کے ریکارڈ (اور اپنے کم عمر بچوں کے ویکسین کے ریکارڈز) تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

عام ضمنی اثرات

ہیں، جو اس بات کی عمومی علامات ہیں کہ آپ کا جسم تحفظ پیدا کر رہا ہے۔ عام ضمنی اثرات میں اس بازو میں سوزش یا سوجن جس پر ٹیکہ لگا تھا، سر درد، جسم میں درد، تھکاوٹ اور بخار شامل ہیں۔ Pfizer اور Moderna ویکسینوں کے لیے، دوسرا ٹیکہ لگوائیں چاہے پہلے ٹیکے کے بعد آپ میں ضمنی اثرات ظاہر ہوں، ماسوائے کہ آپ کا نگہداشتِ صحت فراہم کنندہ آپ کو ایسا کرنے سے منع کرے۔

ضمنی اثرات:

  • عام طور پر ہلکے سے لے کر معتدل ہوتے ہیں

عام طور پر ویکسین لگنے کے بعد کے پہلے تین دن کے اندر شروع ہوتے ہیں اور شروع ہونے کے بعد تقریبا ایک یا دو دن تک رہتے ہیں

  • سب سے زیادہ عام ویکسین لگنے کے اگلے دن ہیں
  • عمر رسیدہ افراد میں کم عام ہیں
  • Pfizer یا Moderna ویکسین کی پہلی خوراک لگوانےکے مقابلے میں دوسری خوراک لگوانے کے بعد زیادہ عام ہیں۔

ضمنی اثرات سے نمٹنا

ٹیکہ لگنے کی جگہ پر درد یا سوجن کو کم کرنے کے لیے اس جگہ پر ایک صاف، ٹھنڈا، گیلا کپڑا رکھیں۔ اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ کو کال کریں اگر:

  • آپ کو ایسے ضمنی اثرات درپیش ہوں جو آپ کے لیے باعث تشویش ہوں یا چند دن بعد ختم نہ ہوئے ہوں
  • آپ کو جہاں ٹیکہ لگا تھا وہاں پر 24 گھنٹے بعد سرخی بڑھ جائے

اپ ویکیسن لگوانے کے بعد درد یا بے آرامی کو کم کرنے کے لیے بغیر نسخے کے دستیاب ہو جانے والی کوئی دوا جیسے ایسیٹامینوفِن (Tylenol) یا آئیبوپروفِن (Advil) استعمال کرنے کے بارے میں بھی اپنے فراہم کنندہ سے بات کر سکتے ہیں۔

ضمنی اثرات کی رپورٹ کرنا

ضمنی اثرات کی رپورٹ کرنا مددگار ہوتا ہے کیوںکہ یوں صحت ضمنی اثرات کی رپورٹ کرنا مددگار ہوتا ہے کیوںکہ یوں صحت عامہ کے ماہرین ویکسین کے اثرات پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ صحت کی علامات کے متعلق رابطہ کیے جانے پر پورا اترنے اور ضمنی اثرات کی اطلاع دینے کے لیے آپ ویکسینشن کے بعد CDC کے v-safe اسمارٹ فون پر مبنی ٹول پر سائن اپ کر سکتے ہیں۔ آپ ضمنی اثرات کی اطلاع CDC اور FDA کے ویکسین کے منفی اثرات کی رپورٹنگ کا سسٹم (VAERS) پر آن لائن یا
‎800-822-7967 پر کال کر کے دے سکتے ہیں۔

عامہ کے ماہرین

حفاظتی نگرانی کے ان اور دیگر سسٹمز کے متعلق جانیے

شدید ضمنی اثرات

CDC نے COVID-19 کی ویکسین لگوانے کے بعد ہونے والے تین شدید ضمنی اثرات کی شناخت کی ہے۔ یہ سبھی بہت نایاب ہیں۔ CDC اور دیگر ماہرین کی جانب سے 5 سال اور اس سے بڑے ہر فرد کے لیے COVID-19 کی ویکسین لگوانے کی تجویز دیا جانا جاری ہے۔ ان ضمنی اثرات کا خطرہ کم ہے اور COVID-19 سے شدید بیمار پڑنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے

  • خون کے لوتھڑے بننا Johnson & Johnson: Johnson & Johnson ویکسین لگوانے والے افراد میں پلیٹلیٹس کی کم مقدار والے نایاب قسم کے خون کے لوتھڑے بننے کا کم سطح کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ یہ کیفیت تھرومبوسس وِد تھرومبوسائیٹوپینیا سنڈروم (thrombosis with thrombocytopenia syndrome, TTS) کہلاتی ہے۔ ویکسین لگنے کے بعد TTS زیادہ تر 50 سال سے کم عمر کی خواتین کو ہوا ہے، لیکن مردوں اور معمر خواتین کو بھی ہوا ہے فاقہ ہوتا ہے۔
  • گیلین بیری سنڈروم (Johnson & Johnson): جن لوگوں نے Johnson & Johnson ویکسین لگوائی تھی ان میں سے ایک مختصر تعداد کو گیلین بیری سنڈروم لاحق ہوا ہے۔ یہ سنڈروم پٹھوں کی کمزوری، اعصاب کو نقصان اور کچھ مواقع پر فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ زیادہ تر افراد مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں لیکن کچھ کو مستقل نقصان پہنچ جاتا ہے۔
  • دل کی سوزش (Pfizer اور Moderna): جن لوگوں کو Moderna یا Pfizer کی COVID-19 ویکسین لگی ان میں دل کی سوزش کا کم سطح کا خطرہ (myocarditis) اور دل کے ارد گرد کے ریشوں (pericarditis) کی سوزش کے کم سطح کے خطرے کی رپورٹ کی گئی ہے۔ زیادہ تر کیسز کم عمر لڑکوں اور نوعمر بالغوں میں ہوئے ہیں، ہلکی نوعیت کے ہیں، اور علاج اور آرام سے ان میں افاقہ ہوتا ہے۔

الرجک رد عمل

ویکسینوں سے شدید الرجک ردعمل بہت کم ہوتے ہیں۔

احتیاطی تدبیر کے طور پر ہر شخص کو ٹیکہ لگنے کے بعد کم از کم 15 منٹ کے لیے نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کو ماضی میں کسی بھی وجہ سے شدید الرجک ردعمل (جیسےاینافائلیکسس) ہوتے رہے ہیں، ان کو 30 منٹ کے لیے نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔

شدید الرجک ردعمل عام طور پر ٹیکہ لگوانے کے بعد چند منٹ سے ایک گھنٹے کے اندر شروع ہو جاتے ہیں۔

شدید الرجک رد عمل کی علامات میں یہ شامل ہو سکتی ہیں:

  • سانس لینے میں دقت
  • چہرے اور گلے کا سوج جانا
  • دل کی تیز دھڑکن
  • ورے جسم پر شدید دھپّڑ پڑ جانا
  • چکر آنا
  • کمزوری

اگر آپ کو لگے کہ آپ کو شدید الرجک ردعمل کا سامنا ہے تو 911 پر کال کریں یا قریبی اسپتال میں جائیں۔


ویکسین لگوانے کے بعد

COVID-19 اینٹی باڈی ٹیسٹ کے نتائج

اس وقت دستیاب اینٹی باڈی ٹیسٹ COVID-19 کے خلاف مدافعت کو نہیں جانچ سکتے۔ ان کو COVID-19 کی ویکسین لگوانے کے بعد یہ دیکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کہ آیا اس فرد میں COVID-19 کے خلاف مدافعت پیدا ہوئی یا نہیں۔

بالاخر کامیاب ویکسین

ویکسینیں COVID-19 انفیکشن کی روک تھام میں بہت مؤثر ہیں۔ ویکسین لگوانے والے بیشتر لوگوں کو COVID-19 نہیں ہو گا، لیکن کوئی بھی ویکسین ٪100 مؤثرنہیں ہے مکمل طور پر ویکسین یافتہ افراد کی ایک مختصر تعداد انفیکشن میں مبتلا ہو گی اور بیمار پڑے گی۔ اس کو بریک تھرو انفیکشن کہتے ہیں۔ ان لوگوں کو پھر بھی ویکسین شدید بیمار پڑنے اور موت کے خلاف طاقت ور تحفظ فراہم کرتی ہے۔ جن لوگوں کو ویکسین نہیں لگی ان کے COVID-19 میں مبتلا ہونے کا امکان بہت زیادہ لوتا ہے اور وہ شدید بیمار پڑنے کے سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

ڈیلٹا ویرینٹ سے انفیکشن زدہ کوئی فرد دوسروں میں وائرس پھیلا سکتا ہے چاہے ان کو ویکسین لگی ہو یا نہ لگی ہو۔ ڈیلٹا ویرینٹ اصل وائرس سے بہت زیادہ متعدی ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ مکمل طور پر ویکسین شدہ ہیں ان کو بھی COVID-19 کی دیگر احتیاطی تدابیر کرنا جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

ماسکس اور COVID-19 کی

ا سماجی فاصلے کے بغیر کر سکتے ہیں۔ کھلی فضاء میں کی جانے والی سرگرمیاں عام طور پر زیادہ محفوظ ہوتی ہیں۔

آپ کو چار دیواری کے اندر والے تمام عوامی مقامات پر ماسک پہنے رکھنا چاہیے، اور ہر اس مقام پر بھی جہاں آپ کو اپنے گرد موجود افراد کی ویکسین لگے ہونے کی حیثیت کے متعلق علم نہ ہو۔ مزید، آپ جس جگہ جائیں آپ کو وہاں کے ماسک پہننے کے تقاضوں پر لازماً عمل کرنا چاہیے، جیسے کوئی کاروبار، اسکول، پبلک ٹرانسپورٹیشن یا آپ کی کام کرنے کی جگہ۔

رابطے میں آئیں جن کو COVID-19 ہے یا جب بیرونِ ملک سفر سے واپس آئیں تو ٹیسٹ کروائیں۔

مکمل طور پر ویکسین لگ جانے کے بعد آپ کو باقاعدگی کے ساتھ COVID-19 کا ٹیسٹ کروانے کی مزید ضرورت نہیں ہے۔ بہرحال، COVID-19 کی علامات کے حامل ہر فرد کو ٹیسٹ کروانا چاہیے، گھر پر رہنا چاہیے اور دوسروں سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کو ویکسین لگ چکی ہے

جو لوگ مکمل ویکسین یافتہ ہیں ان کو چاہیے کہ اگر وہ کسی ایسے فرد کے ساتھ رابطے میں آئیں جن کو COVID-19 ہے یا جب بیرونِ ملک سفر سے واپس آئیں تو ٹیسٹ کروائیں۔

ویکسینیشن کے فوائد اور ان احتیاطی تدابیر کے متعلق مزید جانیں جن کو اختیار کرنا آپ کو جاری رکھنا چاہیے:


ویکسین کا باحفاظت ہونا

کلینیکل ٹرائلز

COVID-19 کی جو ویکسینیں امریکہ میں دستیاب ہیں ان کو کلنیکل ٹرائلز کے ذریعے محفوظ پایا گیا تھا۔ ان ٹرائلز میں ہزاروں رضاکاروں پر ویکسین کو ٹیسٹ کیا جانا شامل تھا۔ اس عمل کی FDA اور دیگر اداروں نے قریب سے نگرانی کی۔

ویکسینوں کے با حفاظت ہونے کو یقینی بنانے کے لیے:

  • FDA نے کلینیکل ٹرائل کے منصوبہ جات کا یہ یقین حاصل کرنے کے لیے جائزہ لیا کہ یہ اعلٰی ترین سائنسی اور اخلاقی معیارات پر پورا اترتے ہیں۔
  • کلینیکل ٹرائلز کی باہر کے ماہرین پر مشتمل ایک بورڈ نے قریب سے نگرانی کی۔ ان ماہرین میں شعبہ طب کے افراد، اخلاقیات دان، شماریات دان، مریضوں کے نمائندے اور دیگر شامل تھے۔
  • FDA کے سائنس دانوں اور شعبہ طب کے پیشہ ور افراد نے یہ دیکھنے کے لیے تمام دستیاب معلومات کا جائزہ لیا کہ آیا ویکسینوں کو منظور کیا جانا چاہئے یا نہیں۔

محفوظ ہونے کی مسلسل نگرانی

باحفاظت ہونے کی نگرانی کے متعدد نظام اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دینے کے لیے متعین ہیں کہ ویکسین کے باحفاظت ہونے سے متعلق کوئی بھی ممکنہ مسائل فوری شناخت کر لیے جائیں اور ان پر تحقیقات کی جائیں۔ ان میں شامل ہیں:

  • VAERS ۔ نگہداشت صحت فراہم کنندگان کے لیے لازم ہے کہ صحت کے حوالے سے شدت کے حامل واقعات کی رپورٹ CDC اور FDA کے تحت چلنے والے قومی رپورٹنگ سسٹم، جس کو ویکسین کے منفی اثرات کی رپورٹنگ کا سسٹم (Vaccine Adverse Event Reporting System, VAERS) کہا جاتا ہے، کو کریں۔ لوگ خود سے بھی ضمنی اثرات یا دیگر رد عمل کی رپورٹ VAERS آن لائن پر یا ‎800-822-7967 پرکال کر کے کر سکتے ہیں۔

  • v-safe CDC نے v-safe کے نام سے ایک ایپ بنائی ہے جس کو لوگ COVID-19 کی کسی ویکسین سے رد عمل ہونے کی اطلاع دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ٹول CDC کی رد عملوں کا حساب رکھنے اور ان کے واقع ہونے کی تعداد اور شدت کے متعلق مزید جاننے میں مدد کرتا ہے۔

  • ویکسین سیفٹی ڈیٹا لنک۔ یہ نگہداشتِ صحت کے نو اداروں اور CDC کے ایمیونائزیشن سیفٹی آفس کے مابین ایک اشتراک ہے۔ نگہداشتِ صحت کے ادارے لگائی گئی ویکسینوں اور تشخیص شدہ کسی طبی مسائل کے متعلق الیکڑانک ڈیٹا آپس میں بانٹتی ہیں۔

  • پوسٹ لائیسنشور ریپڈ ایمیونائزیشن سیفٹی مانیٹرنگ ( Post-Licensure Rapid Immunization Safety Monitoring, PRISM) یہ صحت کے حوالے سے شاذ و نادر واقعات کے متعلق جاننے اور ان کا جائزہ لینے کے لیے صحت کے منصوبوں اور ایمیونائزیشن کے اندراجات سے آئی معلومات کی جانچ کرتا ہے۔

  • کلینیکل امیونائزیشن سیفٹی اسسمنٹ پراجیکٹ ۔ ویکسین کے باحفاظت ہونے کے حوالے سے مطالعات کرتا ہے اور ان نگہداشت صحت فراہم کنندگان کی مدد کرتا ہے جن کے مخصوص مریضوں کے متعلق ویکسین کے باحفاظت ہونے کے حوالے سے سوالات ہوتے ہیں۔

منفی واقعات کی تمام رپورٹس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ویکسینوں کے باحفاظت ہونے کے متعلق کوئی مسئلہ ہے۔ VAERS صحت کے واقعات کے رجحانات کا پتہ لگاتا ہے، جن کو حفاظتی سگنلز بھی کہا جاتا ہے۔ اگر VAERS کو کوئی حفاظتی سگنل ملتا ہے تو ماہرین یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا صحت کے متعلق ان واقعات اور ویکسین کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ VAERS میں جمع کردہ تمام رپورٹس شامل ہوتی ہیں اس سے قطع نظر کہ یہ کتنی درست ہیں یا یہ کس حد تک امکان ہے کہ یہ واقعات ویکسینوں سے متعلقہ ہیں۔ VAERS کی تنہا رپورٹس کو کسی ویکسین کے تحفظ کا تعین کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔

طویل مدتی تحفظ

ویکسینوں کے شدید ضمنی اثرات عام طور پر چند دنوں کے اندر، اور تقریباً ہمیشہ دو ماہ کے اندر ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد رد عملوں کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کے شرکاء کی دو ماہ سے زیادہ نگرانی کی گئی ہے اور ان کی نگرانی جاری ہے۔ مزید، دسیوں لاکھ لوگوں کو ویکسین لگے دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ کوئی طویل مدتی منفی اثرات شناخت میں نہیں آئے۔

فرٹیلیٹی (تولیدی صلاحیت)

COVID-19 ویکسینوں کا تعلق تولیدی صلاحیت کے مسائل کے ساتھ جوڑنے والے دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کی تائید میں کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ CDC کا کہنا ہے کہ جو لوگ بچے کو جنم دینا چاہتے ہیں ان کے لیے COVID-19 ویکسین لگوانا محفوظ ہے اور تجویز کرتا ہے کہ وہ ویکسین لگوائیں۔

ویکسینیں COVID-19 کا سبب نہیں بن سکتیں

امریکہ میں دستیاب ویکسینوں میں سے کسی میں بھی COVID-19 کا سبب بننے والا وائرس نہیں ہے۔ ویکسینوں سے COVID-19 میں مبتلا ہونا ممکن نہیں ہے۔

ویکسینیں آپ کا DNA تبدیل نہیں کر سکتیں

امریکہ میں استعمال ہونے والی COVID-19 ویکسینوں میں ایسا جینیاتی مواد ہوتا ہے جو جسم کے خلیوں کو وائرس کے خلاف تحفظ پیدا کرنا شروع کرنے کو کہتا ہے۔ تاہم، یہ مواد کبھی بھی آپ کے DNA کے ساتھ تعامل نہیں کرتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسینوں میں موجود جینیاتی مواد آپ کے DNA پر کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہو سکتا۔


ویکسین کے اجزاء اور یہ کیسے کام کرتے ہیں

Pfizer اور Moderna ویکسینیں کس طرح کام کرتی ہیں

Pfizer اور Moderna ویکسینیں دونوں ہی میسنجر (mRNA) RNA ویکسینیں ہیں۔ mRNA ایک مالیکیول ہے جس میں پروٹین بنانے کا بلیو پرنٹ ہوتا ہے۔ یہ دستیاب ہونے والی پہلی mRNA ویکسینیں ہیں، لیکن اس ٹیکنالوجی کا 30 سال سے زیادہ عرصہ تک مطالعہ کیا گیا ہے۔

mRNA ویکسینیں اس طرح کام کرتی ہیں:

  1. mRNA کے مالیکیول جسم میں ایسی پروٹین تیار کرنے کے بارے میں ہدایات کے ساتھ جسم میں داخل ہوتے ہیں جو اس وائرس کا حصہ ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔

  2. بننے والے پروٹین جسم کو اینٹی باڈیز (خاص پروٹین جو کسی مخصوص انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں) اور دیگر دفاع بنانے کے لیے متحرک کرتی ہیں۔

  3. اس کے بعد جسم mRNA کو توڑتا اور تباہ کرتا ہے۔

  4. اگر ویکسین لگوانے کے بعد کوئی شخص COVID-19 کی زد میں آتا ہے تواس کا جسم اس وائرس کو پہچان سکے گا اور اس سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز اور دیگر دفاعی وسائل پیدا کرے گا۔

mRNA ایسی ای میل کی طرح ہے جو آپ کے جسم کو وائرس کی شناخت کرنے اور اسے تباہ کرنے کے طریقے کے متعلق ہدایات کے ساتھ بھیجی جاتی ہے۔ آپ کا جسم ان ہدایات کو استعمال کرتا ہے اور پھر ای میل کو مکمل طور پر حذف کردیتا ہے۔

Johnson ‎& Johnson ویکسین کس طرح کام کرتی ہے

Johnson & Johnson ویکسین ایک اڈینووائرس ویکٹر ویکسین ہے۔ Johnson & Johnson دیگر انفیکشنز کے لیے اڈینووائرس ویکٹر ویکسینوں پر کئی دہائیوں تک تحقیق کرتا رہا ہے۔ اس کمپنی کی ایبولا ویکسین بھی ایک اڈینووائرس ویکٹر ویکسین ہے اور پہلے سے ہی زیرِ استعمال ہے۔

Johnson & Johnson ویکسین Pfizer اورModerna mRNA کی طرح کام کرتی ہے۔ تاہم یہ مدافعتی ردِ عمل پیدا کرنے کی ہدایات کی ترسیل کے لیے ایک مختلف قسم کا میسینجر استعمال کرتی ہے۔ سائنسدانوں نے COVID-19 کا سبب بننے والے وائرس سے ایک جین لیا اور اس جین کو کو ایک اڈینووائرس میں ڈال دیا۔ اس ویکسین میں استعمال کیا گیا اڈینووائرس نزلہ زکام کا سبب بنتا ہے، لیکن اس وائرس میں تبدیلی کی گئی تاکہ یہ انسانوں میں افزائش نسل نہ کر سکے یا بیماری کا سبب نہ بنے۔

Johnson & Johnson ویکسین اس طرح کام کرتی ہے:

  1. جب ویکسین آپ کے جسم میں داخل ہوتی ہے تو اڈینووائرس کوروناوائرس میں سے ایک جین کو انسانی خلیوں میں لے کر جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ کا جسم COVID-19 کا ایک پروٹین بناتا ہے، لیکن اصل وائرس نہیں بناتا
  2. بننے والے پروٹین جسم کو متحرک کرتے ہیں کہبننے والے پروٹین جسم کو متحرک کرتے ہیں کہ وہ اینٹی باڈیز یعنی خصوصی پروٹین جو کسی مخصوص انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں بنائے۔
  3. اگر ویکسین لگوانے کے بعد آپ COVID-19 کی زد میں آئیں تو آپ کا جسم وائرس کو پہچان لے گا اور آپ کا مدافعتی نظام اس کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہو گا۔

ویکسین کے اجزاء

Pfizer اور Moderna ویکسینوں میں ان اقسام کے اجزاء ہیں:

  • لپڈز: لپڈز چکنائی کے مالیکیول ہیں جو پانی میں تحلیل نہیں ہوتے ہیں۔ یہ mRNA کا احاطہ کر کے اس کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ یہ آپ کے خلیوں کے اندر پہنچنے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے۔ شامل لپڈ کی ایک مثال پولی تھائیلین گلائکول ہے

  • نمکیات، ایسیٹک ایسڈ اور امائنز: یہ سب ویکسین کی pH (تیزابیت کی سطح) کو آپ کے جسم کی pH جیسا رکھ کر آپ کے خلیوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ Pfizer ویکسین میں چار نمکیات ہوتے ہیں، جن میں کھانے کا نمک بھی شامل ہے۔ Moderna ویکسین میں ایسیٹک ایسڈ (سرکہ میں تیزاب کی ایک قسم)، ایک نمک اور امونیا سے اخذ کیے گئے دو نامیاتی مرکبات ہوتے ہیں جو امائنز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

  • شوگر: شوگر لپڈز کو ایک دوسرے سے یا ویکسین کی شیشی کی دیواروں پر چپک جانے سے روکنے میں مدد دیتی ہے

Johnson & Johnson ویکسین میں ان اقسام کے اجزاء ہیں:

  • اسٹیبلائزرز: نمکیات، الکہل، پولی سوربیٹ 80 اور ہائیڈروکلورک ایسڈ۔
  • پیداواری ضمنی مصنوعات: امینو ایسڈز۔

ویکسینوں میں یہ موجود نہیں ہیں:

  • اینٹی بائیوٹکس
  • خون سے بنی مصنوعات
  • جنینی ٹشو اور انسانی خُلیے
  • جیلیٹن
  • گلوٹین
  • مرکری
  • مائیکرو چپس
  • سور یا دیگر جانوروں سے بنی ہوئی مصنوعات
  • COVID-19 کا سبب بننے والا وائرس

Pfizer ویکسین(PDF)، Moderna ویکسین (PDF)، اور Johnson & Johnson ویکسین کے اجزاء کی مکمل فہرست ملاحظہ فرمائیں۔

آبادی کے بیشتر حصے میں مدافعت پیدا ہونا (ہرڈ امیونٹی)

ہرڈ امیونٹی یہ ہے کہ جب کسی آبادی کے اس قدر حصے میں کسی متعدی مرض کے خلاف مدافعت (تحفظ) ہو کہ اس بیماری کے پھیلنے کا امکان نہ رہے۔ اس کے نتیجے میں، ان لوگوں میں میں بھی انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے جن کو ویکسین نہیں لگی ہے۔ آبادی کے بیشتر حصے میں مدافعت پیدا کرنے یا دوسرے لفظوں میں ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کے لیے کل آبادی میں سے کتنے فیصد آبادی میں مدافعت پیدا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے، اس حوالے سے مختلف بیماریوں کے لیے مختلف شرح ہے۔

نیو یارک سٹی اور دیگر جگہوں پر ابھی بھی COVID-19 کی منتقلی جاری ہے۔ ماہرین متفق ہیں کہ ہم ہرڈ امیونٹی حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ ہر اہل شخص کو اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ویکسین لگوانی چاہیے۔

وائرس کی نئی شکلیں/ نسلیں

وقت کے ساتھ کسی وائرس میں جینیاتی تبدیلی (بدلاؤ) ہونا اور نئی شکلیں سامنے آنا معمول کی بات ہے۔ COVID-19 کا سبب بننے والے وائرس کی متعدد تبدیل شدہ شکلوں کی شناخت کی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ تبدیل شدہ شکلیں دوسروں کی نسبت زیادہ آسانی اور تیزی سے پھیلتی ہیں اور زیادہ شدید مرض کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کا نتیجہ COVID-19 کے مزید کیسز، ہسپتال میں داخلوں اور اموات کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ان تبدیل شدہ شکلوں کی موجودگی ویکسین لگوانے کو اور بھی اہم بناتی ہے۔

تینوں ویکسینیں ہی ڈیلٹا ویرینٹ سمیت تمام موجودہ ویرینٹس سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ویکسینیں COVID-19 میں مبتلا ہونے کے خطرے کو کم کرتی ہیں اور اب بھی موجودہ تبدیل شدہ شکلوں سے شدید بیمار پڑنے، ہسپتال میں داخل کیے جانے اور موت سے بچانے میں بہت مؤثر ہیں۔


طبی پس منظر اور کلینیکل معاملات

الرجیاں

اگر آپ کو ماضی میں خوراک (بشمول انڈووں)،اگر آپ کو ماضی میں خوراک (بشمول انڈووں)، اینٹی بائیوٹکس یا منہ سے لی جانے والی دیگر دوا، پالتو جانوروں کے بالوں کی خشکی، زہر، دھول میں موجود کیڑوں، پولن، کائی، سگریٹ کے دھوئیں یا لیٹکس سے الرجک رد عمل ہو چکے ہیں تو آپ ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ آپ تب بھی ویکسین لگوا سکتے ہیں جب آپ کے خاندان میں ماضی میں الرجک رد عمل رہے ۔ہوں۔

اگر آپ کو کبھی بھی ان سے شدید الرجک ردعمل ہو چکا ہے تو ویکسین لگوانے سے پہلے اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بات کریں:

  • COVID-19 ویکسین
  • COVID-19 کا کوئی جزو
  • کوئی اور ویکسین یا ٹیکے کی مدد سے دی جانے والی دوا

اس وقت COVID-19 میں مبتلا

اگر حال ہی میں آپ کا COVID-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے یا آپ میں COVID-19 کی علامات ہیں تو اپ کو چاہیے کہ دوسروں کو COVID-19 کی زد میں آنے سے بچانے کے لیے آپ ویکسین لگوانے سے پہلے اپنی آئیسولیشن مکمل کر لینے تک انتظار کریں۔

اس کا مطلب ہے کہ جب تک کہ درج ذیل تمام باتیں واقع نہ ہو جائیں، آپ کو ویکسین نہیں لگوانی چاہیے:

  • میں علامات بالکل ظاہر نہیں ہوئیں تو جس تاریخ کو آپ کا ٹیسٹ ہوا تھا اس کے بعد 10 دن۔
  • بخار کو کم کرنے والی ادویات استعمال کیے بغیر آپ کو پچھلے 24 گھنٹوں سے بخار نہیں ہوا ہے۔
  • اگر آپ کو علامات تھیں تو اب آپ کی علامات میں بہتری آئی ہے۔

اگر آپ اپنی Pfizer یا Moderna ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک کے درمیانی عرصے میں COVID-19 میں مبتلا ہو جائیں تو آپ کو پھر بھی اپنا آئیسولیشن کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد اپنی دوسری خوراک لگوانی چاہیے۔ دوسری خوراک لگوانا اہم ہے، بیشک آپ کو COVID-19 ہو بھی چکا ہو۔

COVID-19 میں مبتلا رہ چکے ہیں

CDC اور دیگر ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ویکسین لگوائی جائے چاہے آپ کو پہلے ہی COVID-19 ہو چکا ہو۔ ویکسین لگوانا آپ کے مدافعتی نظام کو مضبوط کر کے آپ کے دوبارہ COVID-19 میں مبتلا ہونے کے امکان کو کم کرنے میں مدد کا ایک محفوظ طریقہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ویکسین وائرس کی نئی، زیادہ متعدی تبدیل شدہ شکلوں، جیسے ڈیلٹا ویرینٹ، کے خلاف بھی بہتر تحفظ فراہم کرے۔

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پہلے COVID-19 ہوا ہونا کسی فرد کو ویکسینوں سے شدید رد عمل ہو جانے کا سبب بنے گا

یک خلویہ اینٹی باڈی طریقہ علاج

یک خلویہ اینٹی باڈی طریقہ علاج وہ طریقہ علاج ہے جو ڈاکٹر ان لوگوں کے لیے تجویز کرتے ہیں جن کا COVID-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہو۔

اگر آپ یک خلویہ اینٹی باڈی طریقہ علاج کروا چکے ہیں تو آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے اپنے علاج کے بعد 90 دن تک انتظار کرنا چاہیے۔

اگر آپ ویکسین لگوا چکے ہیں اور اس کے بعد COVID-19 میں مبتلا ہوئے تو آپ پھر یک خلویہ اینٹی باڈی طریقہ علاج کروا سکتے ہیں اگر آپ باقی ہر لحاظ سے اس کے اہل ہوں۔

حالیہ طور پر COVID-19 کی زد میں آنا

اگر آپ حال ہی میں کسی ایسے شخص کے ساتھ قریبی رابطے (24 گھنٹے کے دورانیے میں کم سے کم 10 منٹ کے لیے 6 فٹ سے زیادہ قریب رہنا) میںک آئے تھے جن کو COVID-19 ہے تو آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے آخری بار قریبی رابطے میں آنے کے بعد سے 10 دن کے لیے قرنطینہ مکمل کرنے تک انتظار کرنا چاہیے۔

اگر آپ اپنی Pfizer یا Moderna ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک کے درمیانی عرصے میں COVID-19 میں مبتلا کسی فرد کی زد میں آ جائیں تو آپ کو پھر بھی اپنی دوسری خوراک لگوانی چاہیے۔ اگر ایسا آپ کے قرنطینہ کی مدت کے دوران ہوا ہو تو اپنی دوسری خوراک لگوانے کو ملتوی کر دیں۔ آپ کو اس کے بعد جس قدر جتنی جلدی ممکن ہو اپنی دوسری خوراک لگوا لینی چاہیے۔

دیگر ویکسینیں

آپ اپنی COVID-19 ویکسین کوئی اور ویکسین لگوانے سے پہلے، بعد یا اس کے ساتھ ایک ہی وقت میں لگوا سکتے ہیں۔ ہر کسی کو ایک فلو ویکسین (فلو کے موسم سے پہلے یا اس کے دوران) اور ایک COVID-19 ویکسین دونوں لگائی جانی چاہییں۔ امریکہ کے باہر سے COVID-19 ویکسینیں۔

ہو سکتا ہے کہ دوسرے ممالک سے امریکہ آنے والے افراد کو مکمل یا جزوی طور پر Moderna ،Pfizer یا Johnson & Johsnon کے علاوہ کوئی اور ویکسینیں لگ چکی ہوں۔ ان کو مکمل طور پر ویکسین شدہ صرف اس صورت میں مانا جائے گا اگر ان کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے ہنگامی استعمال کے لیے منظور شدہ (WHO) ویکسینیں میں سے کسی کی تمام خوراکیں لگ چکی ہوں۔

اگر آپ کو WHO کی جانب سے ہنگامی استعمال کے لیے فہرست میں شامل کی گئی کسی COVID-19 ویکسین کی تمام خوراکیں لگ چکی ہیں، تو آپ کو FDA کی مجوزہ یا منظور شدہ کسی COVID-19 ویکسین کی اضافی خوراکوں کی ضرورت نہیں۔

اگر آپ کو WHO کی جانب سے ہنگامی استعمال کے لیے فہرست میں شامل کی گئی کسی COVID-19 ویکسین کی تمام خوراکیں نہیں لگی ہیں، تو آپ FDA کی مجوزہ یا منظور شدہ COVID-19 ویکسین سیریز کی مکمل خوراکیں لگوا سکتے ہیں۔ آپ کو اپنی دیگر COVID-19 ویکسین کی پچھلی خوراک لگنے کے بعد کم از کم 28 دن انتظار کرنا ہو گا۔

اگر آپ کو کسی ایسی COVID-19 ویکسین کی تمام یا کچھ تجویز کردہ خوراکیں لگ چکی ہیں جو WHO کی جانب سے ہنگامی استعمال کے لیے فہرست میں شامل نہیں کی گئی، تو آپ FDA کی مجوزہ یا منظور شدہ COVID-19 ویکسین سیریز کی مکمل خوراکیں لگوا سکتے ہیں۔ آپ کو اپنی دیگر COVID-19 ویکسین کی پچھلی خوراک لگنے کے بعد کم از کم 28 دن انتظار کرنا ہو گا۔

اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوالات ہیں تو اپنے کنندہ سے رجوع کریں۔

حاملہ ہونا یا چھاتی کا دودھ پلا رہے ہونا

CDC، امریکن کالج آف آبسٹیٹریشینز اینڈ گائناکالوجسٹس (American College of Obstetricians and Gynecologists, ACOG) اور سوسائٹی فار میٹرنل فیٹل میڈیسن (Society for Maternal-Fetal Medicine, SMFM) کی پُر زور تجویز ہے کہ وہ تمام لوگ جو حمل سے ہیں یا چھاتی کا دودھ پلا رہے ہیں ان کو COVID-19 کے خلاف ویکسین لگوائی جائے۔ یہ تجویز جو لوگ حمل سے ہیں اور جو چھاتی سے دودھ پلا رہے ہیں ان کے لیے ویکسین کے باحفاظت ہونے اور COVID-19 میں مبتلا ہونے کے خطرات کے متعلق دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہے۔ ان میں وائرس کے زیادہ متعدی اور خطرناک ڈیلٹا ویرینٹ کے بڑھے ہوئے خطرات بھی شامل ہیں۔ حفاظت کی نگرانی کے سسٹمز سے آنے والا شروع کا ڈیٹا جو لوگ حمل سے ہیں یا ان کے بچوں کے حوالے سے ویکسینوں کے کسی قسم کے حفاظتی خدشات کی شناخت نہیں کرتا تھا۔

جو لوگ حمل سے ہیں یا چھاتی کا دودھ پلا رہے ہیں ان کو کسی بھی جگہ سے ویکسین لگوائی جا سکتی ہے، جیسے سٹی کے زیرِ انتظام چلائی جانے والی ویکسینیشن سائٹس،فارمیسیاں یا ان کے ڈاکٹر کا دفتر۔ COVID-19 ویکسین لگوانے سے پہلے حمل کا ٹیسٹ کروانے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔

سلسلہِ ماہواری

سلسلہِ ماہواری میں تبدیلیوں کا سبب کئی عوامل ہو سکتے ہیں، جیسے ذہنی دباؤ اور نیند، خوراک، ماحول اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں جو کہ COVID-19 کی عالمگیر وباء کے دوران عام ہیں۔ یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کی جائے گی کہ آیا COVID-19 ویکسینشن اور سلسلہِ ماہواری میں عارضی تبدیلیوں میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ بہرحال، ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کو ویکسین لگوانے کی منصوبہ بندی میں اپنے سلسلہِ ماہواری پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت نہیں اور ماہواری کے دوران ویکسین باحفاظت انداز میں لگائی جا سکتی ہے۔

میموگرامز

ااگر آپ کا میموگرام ہونے والا ہے اور آپ کو حال میں ہی COVID-19 کی ویکسین لگی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے معلوم کریں کہ آپ کو اپنا میموگرام کروانے سے قبل کتنے عرصے تک انتظار کرنا چاہیے۔

COVID-19 ویکسین ٹیکہ لگنے کے مقام کے نزدیک بغل کے اندر لِمفی گِلٹیوں میں سوجن کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ سوجن معمول کا ایک اشارہ ہے کہ اپ کا جسم COVID-19 کے خلاف حفاظت پیدا کر رہا ہے، لیکن یہ میموگرام میں غلط نشاندہی کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اپنا میموگرام ویکسین لگوانے سے پہلے کرائیں یا معمول کے میموگرام کو اپنے آپ کو ویکسین لگوانے کے چار سے چھ ہفتے بعد تک کے لیے ملتوی کر دیں۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوالات ہیں تو اپنے فراہم کنندہ سے رجوع کریں۔

جن لوگوں کا مدافعتی نظام کمزور ہے

CDC تجویز کرتا ہے کہ مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والی کیفیات کے حامل لوگوں کو ویکسین لگوائی جائے۔

کمزور مدافعتی نظام والے افراد COVID-19 سے بیمار پڑنے کے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔ امریکہ میں دستیاب ویکسینوں میں فعال وائرس نہیں ہوتا اور یہ کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو بے خطر دی جا سکتی ہیں۔ اس میں HIV یا مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والی دیگر کیفیات میں مبتلا افراد اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ایسی ادویات استعمال کرتے ہیں جو ان کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہیں۔

ویکسین کی تیسری خوراک ان افراد کے لیے تجویز کردہ ہے جن کا مدافعتی نظام معتدل سے لے کر شدید کمزور ہے (PDF) اور ان کو Pfizer یا Moderna ویکسین لگائی گئی ہے۔

اگر آپ کسی ایسی طبی کیفیت میں مبتلا ہیں یا ایسی ادویات استعمال کر رہے ہیں جو آپ کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد بھی آپ مکمل طور پر محفوظ نہ ہوں۔ احتیاطی تدابیر جیسے ماسک پہننا اور جسمانی فاصلے پر عمل کرنا ختم کرنے سے پہلے اپنے نگہداشتِ صحت فراہم کنندہ سے بات کریں۔

گیلین بیری سنڈروم

Johnson & Johnson ویکسین لگوانے کے بعد گیلین بیری سنڈروم (Guillain-Barré syndrome, GBS) کا تھوڑا سا خطرہ ہے۔ یہ تعلق Pfizer یا Moderna ویکسینوں کے ساتھ نہیں دیکھا گیا۔

GBS کا پسِ منظر رکھنے والے افراد FDA کی مجوزہ یا منظور شدہ COVID-19 ویکسینوں میں سے کوئی سی بھی لگوا سکتے ہیں اور ویکسین کا انتخاب کرتے وقت اپنے فراہم کنندہ کے ساتھ اس پر بات کر سکتے ہیں۔

بیلز پالسی (چہرے کا فالج)

جن لوگوں کو پہلے بیلز پالسی (چہرے کا فالج) ہو چکا ہے وہ FDA کی مجوزہ یا منظور شدہ ویکسینوں میں سے کوئی بھی لگوا سکتے ہیں۔

COVID-19 ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز میں ویکسینیشن کے بعد بیلز پالسی کے کیسز کی ایک چھوٹی تعداد رپورٹ کی گئی تھی۔ تاہم FDA ان کو عام آبادی میں متوقع شرح سے زیادہ نہیں سمجھتی۔ انہوں نے یہ نتیجہ نہیں اخذ کیا کہ یہ کیسز ویکسینیشن کے سبب ہوئے تھے۔ CDC اور دیگر ماہرین حفاظتی ڈیٹا کی قریب سے نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اگر حفاظت کا کوئی ممکنہ مسئلہ شناخت میں آیا تو اس کی تحقیقات کریں گے۔

ڈرمل فِلرز والے لوگ

کبھی کبھار، جن لوگوں نے ڈرمل فِلرز کروائے ہوتے ہیں ان کو Pfizer یا Moderna ویکسین لگنے کے بعد فِلر انجکشن کی جگہ (عام طور پر چہرہ یا ہونٹ) پر سوجن کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسا Johnson & Johnson ویکسین لگوانے والوں میں نہیں دیکھا گیا۔ سوجن عارضی محسوس ہوتی ہے اور طبی علاج، بشمول کورٹی کوسٹیرائڈ تھراپی، سے ختم ہو جاتی ہے۔

جن لوگوں نے ٹیکے کی مدد سے لگائے جانے والے ڈرمل فِلرز کروائے ہیں وہ FDA کی مجوزہ یا منظور شدہ ویکسینوں میں سے کوئی بھی لگوا سکتے ہیں۔ اگر ان کو ویکسین لگوانے کے بعد ڈرمل فِلر والی جگہ پر یا اس کے پاس سوجن محسوس ہو تو ان کو جانچ کے لیے اپنے نگہداشتِ صحت فراہم کنندہ سے رابطہ کرنا چاہیے۔۔

دیگر طبی کیفیات اور ادویات

متعدد طبی کیفیات لوگوں کو اس چیز کے بڑھے ہوئے خطرے کی زد میں لے آتی ہیں کہ وہ COVID-19 میں مبتلا ہونے کی صورت میں شدید بیمار پڑیں گے، یہ COVID-19 کی ویکسین لگوانے کو اور بھی اہم بنا دیتا ہے۔ کلینیکل ٹرائلز کے بہت سے شرکاء کو صحت کے بنیادی عارضے لاحق تھے اور ویکسین ان کے لیے محفوظ اور مؤثر رہی تھی۔ عوام میں موجود دسیوں لاکھ افراد جن کو بنیادی صحت کے عارضے لاحق تھے کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ کسی طبی عارضے کے حامل لوگ ویکسین لگوا سکتے ہیں جب تک کہ انہیں COVID-19 ویکسین یا اس کے اجزاء سے کچھ مخصوص الرجک ردعمل نہ ہوں۔

مزید یہ کہ COVID-19 ویکسین لگوانے پر لوگوں کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ کسی قسم کی ادویات کا استعمال چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

خدشات ہیں تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ کے ساتھ ویکسین لگوانے کے بارے میں بات کریں۔

ویکسین کی تیاری، اجازت نامہ اور منظوری


تیاری اور ٹیسٹنگ

COVID-19 ویکسینیں ان ہی مراحل سے گزری ہیں جن سے دیگر ویکسینیں گزرتی ہیں: پہلے ان کو ایک لیبارٹری میں تیار کیا گیا اور پھر وہ کلینیکل ٹرائلز سے گزریں جن کی FDA نے قریب سے نگرانی کی۔

کلینیکل ٹرائلز میں ویکسین کو یہ جاننے کے لیے لوگوں پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ آیا یہ محفوظ اور موثر ہے۔ ہر COVID-19 ویکسین کو مختلف صنف، عمر، نسل اور قومیت کے ہزاروں افراد پر ٹیسٹ کیا گیا تھا جنہوں نے کلینیکل ٹرائلز میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیا تھا۔

ہنگامی استعمال کا اجازت نامہ

کسی ہنگامی صورت میں، FDA ہنگامی استعمال کا اجازت نامہ (Emergency Use Authorization, EUA) جاری کر کے ویکسینوں کے ساتھ ساتھ ٹیسٹوں اور علاج کے طریقوں کے استعمال کی اجازت دے سکتا ہے۔ Moderna ،Pfizer اور Johnson & Johnson ویکسینوں میں سے تینوں کو ایک ایک EUA جاری کیا گیا ہے۔

EUA حاصل کرنے والی تمام ویکسینوں کو انہی کلینیکل ٹرائلز سے گزرنا ہوتا ہے جن سے دیگر ویکسینیں گزرتی ہیں۔ FDA صرف اس وقت ہی EUA دے سکتی ہے جب ٹھوس شواہد موجود ہوں کہ ویکسین لگوانے کے فوائد مریضوں کو درپیش کسی قسم کے خطرات سے کہیں زیادہ ہوں۔

لائسنس کا اجراء

FDA توقع کرتا ہے کہ جن مینوفیکچرروں کی COVID-19 ویکسینوں کو EUA کے تحت اجازت نامہ دیا گیا ہے، وہ تحفظ اور مؤثر ہونے کے بارے میں اضافی معلومات حاصل کرنے کے لیے کلینیکل ٹرائلز کو ایک طویل تر عرصے تک جاری رکھیں گے، اور منظوری (لائسنس کے اجراء) کے لیے درخواست دیں گے۔

Pfizer کی ویکسین نے اب 16 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے لائسنس حاصل کر لیا ہے (جس کو Comirnaty کا نام دیا گیا ہے)۔ 5 سے 15 سال کی عمروں کے افراد میں استعمال ابھی بھی EUA کے تحت ہے۔

Moderna نے لائسنس کے اجراء کی درخواست جمع کروا دی ہے اور Johnson & Johnson جو بعد میں دستیاب ہوا تھا ابھی بھی اضافی ڈیٹا جمع کر رہا ہے۔


اضافی وسائل