COVID-19 ویکسین کے حقائق

[ View information about COVID-19 in English ]

ویکسین آپ کو COVID-19 سے محفوظ رکھتی ہے۔ آپ کی عمر سے قطع نظر، COVID-19 پیچیدگیوں اور موت کا سبب بن سکتی ہے۔ چاہے آپ کو COVID-19 رہ چکا ہے تو بھی ویکسین لگوانا ضروری ہے کیونکہ یہ آپ کو دوبارہ COVID-19 ہونے کا خطرہ کم کرتی ہے اور آپ کے ذریعے اس بیماری کو دوسروں تک منتقل ہونے سے بھی روک سکتا ہے۔

نیز، ویکسین لگوانے سے آپ کے آس پاس کے لوگوں کی حفاظت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے افراد کی جن کو یہ ویکسین نہیں لگ سکتی، جیسے کہ بچے۔ ویکسین لگوانا، روک تھام کے دیگر اقدامات کے ساتھ، COVID-19 کی صحت عامہ کی ایمرجنسی کو ختم کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔

ذیل میں ویکسین کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں، بشمول یہ کیسے کام کرتی ہیں، ویکسین کب اور کہاں سے لگوانی چاہیے، اور ویکسین لگوانے کے بعد کیا توقع رکھنی چاہیے۔

ویکسین کی تیاری اور منظوری

تیاری اور ٹیسٹنگ

COVID-19 ویکسینیں تیاری کے انہی مراحل سے گزری ہیں جن سے دیگر ویکسینیں تیاری کے دوران گزرتی ہیں: ان کو لیبارٹری میں تیار اور ٹیسٹ کیا گیا تھا، اور پھر یہ کلینیکل ٹرائلز کے مرحلے سے گزریں جس کی امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (Food and Drug Administration, FDA) نے قریب سے نگرانی کی۔

کلینیکل ٹرائلز میں ویکسین کو یہ جاننے کے لیے لوگوں پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ آیا یہ محفوظ اور موثر ہے۔ ہر COVID-19 ویکسین کو مختلف صنف، عمر، نسل اور قومیت کے ہزاروں افراد پر ٹیسٹ کیا گیا تھا جنہوں نے کلینیکل ٹرائلز میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیا تھا۔

تیاری میں لگنے والا وقت

COVID-19 ویکسینوں کی تیاری میں بے مثال وسائل استعمال کئے گئے تھے۔ 2020 کے موسم بہار سے اب تک، اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں اور دنیا بھر سے سیکڑوں سائنس دان ویکسین تیار کرنے پر مسلسل کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سائنسدانوں نے دیگر ویکسینوں پر کی کئی سالوں کی تحقیق کو بھی استعمال کیا، جس میں دیگر کورونا وائرسوں کے لیے ویکسینیں بھی شامل ہیں۔

وفاقی حکومت نے ایک ہی وقت میں ویکسینوں کی تیاری، ٹیسٹنگ اور پروڈکشن کیے جانے کے لیے خصوصی فنڈنگ فراہم کی۔ اس وجہ سے کمپنیاں استعمال کے لیے مجاز ہونے سے قبل ہی ویکسین تیار کرنا شروع کر پائیں۔ وفاقی حکومت، اسٹیٹ اور مقامی محکمہ صحت اور نگہداشت صحت فراہم کنندگان مہینوں سے اسٹوریج، تقسیم، فراہمی اور رسد کے دیگر منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جیسے ہی ویکسینوں کے استعمال کی منظوری ملے، ان کی فراہمی اور انہیں لگانے کا کام شروع کر دیا جائے۔

ہنگامی استعمال کی اجازت

ایمرجنسی کی صورت میں، FDA ہنگامی استعمال کی اجازت (Emergency Use Authorization, EUA ) کے ذریعے ویکسینوں (اور دیگر علاج) کے استعمال کی اجازت دے سکتی ہے۔ Pfizer اور Moderna دونوں کے لیے ہی EUA جاری کیا گیا ہے۔

EUA حاصل کرنے والی تمام ویکسینوں کو انہی کلینیکل ٹرائلز سے گزرنا ہوتا ہے جن سے دیگر ویکسینیں گزرتی ہیں۔ FDA صرف اس وقت ہی EUA دے سکتی ہے جب ٹھوس شواہد موجود ہوں کہ ویکسین لگوانے کے فوائد مریضوں کو درپیش کسی قسم کے خطرات سے کہیں زیادہ ہوں۔

FDA بھی توقع کرتی ہے کہ جن مینوفیکچروں کی COVID-19 ویکسینوں کو EUA کے تحت منظور کیا گیا ہے، وہ اضافی تحفظ اور موثر ہونے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے، کلینیکل ٹرائلز جاری رکھیں گے، اور منظوری (لائسنس) کے لئے درخواست دیں گے۔


ویکسین سے ملنے والا تحفظ اور اس کا موثر ہونا

تحفظ کے شواہد اور نگرانی

منظور شدہ ویکسینیں کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے محفوظ نظر آئیں تھیں۔ ان ٹرائلز میں ہزاروں رضاکاروں پر ویکسین کو ٹیسٹ کیا جانا شامل تھا۔ اس عمل کی FDA اور دیگر اداروں نے قریب سے نگرانی کی۔

ویکسینوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے:

  • یہ یقینی بنانے کے لئے کہ یہ عمل اعلی ترین سائنسی اور اخلاقی معیارات پر پورا اترتا ہے، FDA نے کلینیکل ٹرائل کے پلانز اور پروٹوکولز کا جائزہ لیا۔

  • کلینیکل ٹرائلز کو دیگر گروپوں کے علاوہ، بیرونی ماہرین (طبی عملہ، اخلاقیات کے ماہرین، شماریات دان، مریضوں کے وکلا) پر مشتمل ڈیٹا سیفٹی مانیٹرری بورڈز کی جانب سے قریبی نگرانی کی گئی۔

  • FDA کے سائنس دانوں اور طبی پیشہ ور افراد نے یہ معلوم کرنے کے لئے تمام دستیاب معلومات کا جائزہ لیا کہ ویکسینوں کو منظور کیا جانا چاہئے یا نہیں۔

  • متعدد وفاقی ایجنسیوں اور اداروں نے ویکسینوں کے لگائے جانے کے بعد بھی ان کے تحفظ کی نگرانی کرنا جاری رکھا ہے۔

الرجک / منفی رد عمل کی ٹریکنگ

نگہداشت صحت فراہم کنندگان سے درکار کیا جاتا ہے کہ وہ کچھ مخصوص رد عمل کے واقعات کو CDC اور FDA کے تحت چلنے والے قومی رپورٹنگ سسٹم، جس کو ویکسین کے منفی اثرات کی رپورٹنگ کا سسٹم (Vaccine Adverse Event Reporting System, VAERS) کہا جاتا ہے، میں رپورٹ کریں۔

لوگ خود سے بھی ضمنی اثرات یا دیگر رد عمل VAERS آن لائن پر یا 7967-822-800 پر کال کر کے رپورٹ کر سکتے ہیں۔

CDC نے V-safe کے نام سے ایک اسمارٹ فون ایپ بھی بنا رکھی ہے جس کو لوگ ویکسین کے حوالے سے رد عمل کے اطلاع دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ویکسینوں کا موثر ہونا

دونوں ویکسینیں بہت موثر ہیں۔

کلینیکل ٹرائلز میں، ٹرائل میں حصہ لینے والوں کو COVID-19 سے محفوظ رکھنے میں Pfizer ویکسین 95 فیصد اور Moderna ویکسین 94 فیصد موثر پائی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کلینیکل ٹرائلز کے دوران ویکسین لگوانے والے 10 میں سے 9 افراد بیماری سے محفوظ رہے تھے۔

کلینیکل ٹرائلز میں شامل تمام صنف، عمر، نسل اور قومیت کے گروپوں میں دونوں ویکسینیں محفوظ اور موثر ثابت ہوئی تھیں۔

بیلز پالسی (چچہرے کا فالج)

کلینیکل ٹرائلز کے دوران دونوں ویکسینوں میں سے کوئی ایک ویکسین لگوانے والے ہزاروں افراد میں سے کچھ کو بیلز پالسی (چہرے کا فالج) ہوا۔ تاہم، FDA نے اس بات کا تعین نہیں کیا کہ یہ کیس ویکسین کی وجہ سے ہوئے تھے۔ کلینیکل ٹرائلز کے دوران بیلز پالسی کی دیکھی جانے والی شرح عام آبادی میں متوقع شرح سے زیادہ نہیں تھی۔

جن لوگوں کو بیلز پالسی ہو چکا ہے، انکو ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔ اگر آپ کو بیلز پالسی ہو چکا ہے اور ویکسین لگوانے کے بارے میں سوالات ہیں تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بات کریں۔

گیلین بیری

Pfizer یا Moderna کے کلینیکل ٹرائلز میں شریک افراد میں ویکسینیشن کے بعد گیلین بیری سنڈروم کے بارے میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ جن لوگوں کو گیلین بیری سنڈروم ہو چکا ہے، انکو ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔

اگر آپ کو گیلین بیری سنڈروم ہو چکا ہے اور ویکسین لگوانے کے بارے میں سوالات ہیں تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بات کریں۔

فرٹیلیٹی (تولیدی صلاحیت)

وہ خواتین جو COVID-19 میں مبتلا رہی تھیں، ان میں بانجھ پن کا مسئلہ نہیں پایا گیا ہے، لہذا یہ توقع نہیں کی جاتی کہ یہ ویکسین کے لیے مسئلہ ہو گا۔ ایسی خواتین جو اس وقت حاملہ ہونے کی کوشش کر رہی ہیں یا جو مستقبل میں حاملہ ہونا چاہتی ہیں، انہیں ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔ ویکسینوں کے استعمال کی منظوری اور ان کے استعمال کے بعد، ان کی نگرانی اور ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ COVID-19 ویکسین یا کسی اور ویکسین کا استعمال تولیدی صلاحیت میں مسلے کے ضمنی اثرات کا سبب بنا ہو۔

بانجھ پن کے دعوے سائنس کے بارے میں غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ بہت سی دوسری ویکسینوں کی طرح، COVID-19 ویکسین ہمارے جسم کو وائرس سے لڑنے کے لئے اینٹی باڈیز بنانے کے لئے تعلیم دے کر کام کرتی ہے۔ بانجھ پن کے خدشات اس خیال پر مبنی ہیں کہ اینٹی باڈیز پلنتھرا (رحم کی اندرانی دیوار سے منسلک نالی) میں ایک ایسے پروٹین پر حملہ کریں گی جس میں COVID-19 وائرس میں پائے جانے والے پروٹین کے ساتھ کچھ چیزیں مشترک ہیں۔ تاہم، دونوں پروٹین بہت مختلف ہیں، اور ہمارے مدافعتی نظام ان میں تفریق کرنے کے لیے کافی ہوشیار ہیں۔ فی الحال، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ اینٹی باڈیز حمل میں کسی طرح کی پریشانی، بشمول پلنتھرا کی نشونما میں مسلے، کا باعث ہوں گی۔

ویکسین COVID-19 کا سبب نہیں بن سکتی

Pfizer اور Moderna دونوں ہی میں ایسا وائرس نہیں ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔ ویکسینوں سے COVID-19 حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔


ویکسین کے اجزاء اور وہ کیسے کام کرتے ہیں

میسنجر (mRNA) RNA ویکسینیں

Pfizer اور Moderna ویکسینیں دونوں ہی میسنجر (mRNA) RNA ویکسینیں ہیں۔ mRNA ایک مالیکیول ہے جو پروٹین بنانے کے لئے بلیو پرنٹ رکھتا ہے۔ یہ منظوری حاصل کرنے والی پہلی mRNA ویکسینیں ہیں، لیکن اس ٹیکنالوجی کا 30 سال سے زیادہ عرصہ تک مطالعہ کیا گیا ہے۔

mRNA ویکسینیں اس طرح کام کرتی ہیں:

  1. mRNA کے مالیکیول جسم میں ایسی پروٹین تیار کرنے کے بارے میں ہدایات کے ساتھ جسم میں داخل ہوتے ہیں جو اس وائرس کا حصہ ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔

  2. پیدا ہونے والی پروٹینیں جسم کو اینٹی باڈیز (خصوصی پروٹین جو ایک مخصوص انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں) اور دیگر دفاع بنانے کے لئے متحرک کرتی ہیں۔

  3. اس کے بعد جسم mRNA کو توڑتا اور تباہ کرتا ہے۔

  4. اگر ویکسین لگوانے کے بعد کوئی شخص COVID-19 کی زد میں آتا ہے تواس کا جسم اس وائرس کو پہچان سکے گا اور اس سے لڑنے کے لئے اینٹی باڈیز اور دیگر دفاعی وسائل پیدا کرے گا۔

مختصرا، mRNA ایسی ای میل کی طرح ہے جو آپ کے جسم کو وائرس کی نشاندہی کرنے اور اسے ختم کرنے کے طریقے کے بارے میں ہدایات کے ساتھ بھیجی جائے۔ آپ کا جسم ان ہدایات کا استعمال کرتا ہے اور پھر ای میل کو مکمل طور پر حذف کردیتا ہے۔

mRNA کسی شخص کے DNA کے ساتھ تعامل نہیں کرتا ہے اور نہ ہی اسے تبدیل کرتا ہے۔

اجزاء

mRNA کے علاوہ ،ویکسینوں میں صرف مندرجہ ذیل اقسام کے اجزاء شامل ہیں:

  • لپڈز: لپڈز چکنائی کے مالیکیول ہیں جو پانی میں تحلیل نہیں ہوتے ہیں۔ یہ mRNA کا احاطہ کر کے اس کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ آپ کے خلیوں میں جانے سے پہلے یہ ٹوٹ نہ سکے۔ شامل لپڈ کی ایک مثال پولی تھائیلین گلائکول ہے۔

  • نمکیات، ایسیٹک ایسڈ اور امائنز: یہ سب ویکسین کی pH (تیزابیت کی سطح) کو آپ کے جسم کی pH جیسا رکھ کر آپ کے خلیوں کی حفاظت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ Pfizer ویکسین میں چار نمکیات ہوتے ہیں، جن میں کھانے کا نمک بھی شامل ہے۔ Moderna ویکسین میں ایسیٹک ایسڈ (سرکہ میں تیزاب کی ایک قسم)، ایک نمک اور امونیا سے اخذ کیے گئے دو نامیاتی مرکبات ہوتے ہیں جو امائنز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

  • شوگر: شوگر لپڈز کو ایک دوسرے سے یا ویکسین کے شیشی کے اطراف جڑنے سے روکنے میں مدد دیتی ہے۔

ویکسینوں میں یہ شامل نہیں ہیں:

  • اینٹی بائیوٹکس
  • خون کی پروڈکٹس
  • DNA
  • جنینی ٹشو
  • جیلیٹن
  • گلوٹین
  • مرکری
  • مائیکرو چپس
  • سور سے بنی ہوئی یا دیگر جانوروں کی مصنوعات
  • COVID-19 کا سبب بننے والا وائرس

Pizer ویکسین (PDF) اور Moderna ویکسین (PDF) کے اجزاء کی مکمل فہرست ملاحظہ کریں۔ ویکسینیں کتنا عرصہ تک کام کرتی ہیں

ویکسینیں کتنا عرصہ تک کام کرتی ہیں

ہم ابھی نہیں جانتے کہ COVID-19 ویکسینیں لوگوں کو کتنا عرصہ تک تحفظ فراہم کریں گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ویکسین ہر سال لگوانی پڑے، جیسے فلو کے شاٹ کے کیس میں ہوتا ہے، یا ایک اضافی شاٹ یا بوسٹر شاٹ کی ضرورت پڑے، جیسے تشنج کے شاٹ کے کیس میں ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلی دو خوراکوں کے بعد اضافی ویکسین کی ضرورت نہ پڑے۔

جاری تحقیق اور وقت ہمیں بتائے گا کہ ویکسینوں کا تحفظ کتنا عرصہ جاری رہتا ہے اور آیا کہ لوگوں کو اضافی خوراک کی ضرورت پڑے گی۔ کلینیکل ٹرائلز میں حصہ لینے والوں کی نگرانی جاری رہے گی، اور ہم وقت کے ساتھ دنیا بھر میں ویکسین لگوانے والے لاکھوں افراد سے مزید سیکھیں گے۔

بیماری کی منتقلی پر اثر

کلینیکل ٹرائلز سے معلوم ہوا کہ Pfizer اور Moderna دونوں ویکسینیں COVID-19 کی علامات اور COVID-19 کی وجہ سے شدید بیماری کی روک تھام کے لئے موثر ہیں۔

یہ جاننے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا ویکسینیں لوگوں کو وائرس سے متاثر ہونے سے بچاتی یا ان کے ذریعے اسے منتقل ہونے سے روکتی ہیں۔

آبادی کے بیشتر حصے میں مدافعت پیدا ہونا (ہرڈ امیونٹی)

آبادی کے بیشتر حصے میں مدافعت تب پیدا ہوتی ہے جب آبادی میں کافی لوگوں میں کسی متعدی بیماری کے خلاف مدافعت (تحفظ) پیدا ہو جاتی ہے جس سے اس بیماری کے پھیلنے کا امکان نہیں رہتا۔ اس کے نتیجے میں، ان لوگوں میں میں بھی انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے جن کو ویکسین نہیں لگی ہے۔ آبادی کے بیشتر حصے میں مدافعت پیدا کرنے یا دوسرے لفظوں میں ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کے لیے کل آبادی میں سے کتنے فیصد آبادی میں مدافعت پیدا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے، اس حوالے سے مختلف بیماریوں کے لیے مختلف شرح ہے۔

COVID-19 کے لئے، ماہرین ابھی تک نہیں جان پائے ہیں کہ ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کے لیے کتنے فیصد آبادی کو ویکسین لگانا ہو گی۔ تاہم، اس سے پہلے کہ ہم ہرڈ امیونٹی پر پہنچ سکیں، بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین لگانا بیمار ہونے، اسپتال میں داخل ہونے یا COVID-19 سے انتقال کر جانے والے لوگوں کی تعداد کو کم کرے گا۔

وائرس کی نئی شکلیں/ نسلیں

وقت کے ساتھ کسی وائرس میں جینیاتی تبدیلی (بدلاؤ) ہونا اور نئی شکلیں سامنے آنا معمول کی بات ہے۔ COVID-19 کا سبب بننے والے وائرس کی متعدد اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ مختلف شکلیں دوسروں کی نسبت زیادہ آسانی سے اور جلدی پھیلتی دکھائی دیتی ہیں، جس کی وجہ سے COVID-19 کے کیسوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ ویکسینوں سے اب تک سامنے آنے والی تمام اقسام کے خلاف تحفظ حاصل ہو گا، اگرچہ اعداد و شمار بہت ہی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ سائنس دان ان مختلف اقسام کے بارے میں مزید جاننے کے لیے کام کر رہے ہیں اور یہ کہ ان کی وجہ سے ویکسینیں کس طرح متاثر ہوتی ہیں۔


ویکسین لگوانے کے لیے اہلیت

اس وقت یہ اہل ہیں

نیو یارک کے بیشتر باشندوں کو ممکنہ طور پر 2021 کے وسط تک COVID-19 ویکسینیں دستیاب ہوں گی۔ جب تک کہ ویکسینیں کافی مقدار میں دستیاب نہ ہو جائیں تب تک ویکسین لگوانے کے لیے ان لوگوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جن کو COVID-19 ہونے یا COVID-19 کی شدید بیماری کا زیادہ خطرہ ہے۔

نیویارک اسٹیٹ یہ طے کرتی ہے کہ کون سے گروپس کو ترجیح دی جانی چاہیے، اور پوری اسٹیٹ میں کس وقت تک ویکسین تقسیم کرنی ہے۔ ترجیح دینے کا عمل حفاظتی ٹیکے لگانے کے طریقہ کار سے متعلق CDC کی مشاورتی کمیٹی کی جاری کردہ رہنمائی پر مبنی ہے۔

اس وقت ویکسین لگوانے کے لیے کون اہل ہے، اس بارے میں مکمل فہرست کے لیے "COVID-19: Vaccine Eligibility" (COVID-19: ویکسین کے لیے اہلیت) ملاحظہ کریں۔

ترک وطن کی حیثیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا

COVID-19 ویکسینیں ترک وطن کی حیثیت سے قطع نظر سب لوگوں کے لیے دستیاب ہیں۔ آپ کی ترک وطن کی حیثیت ہمارے لئے اہمیت نہیں رکھتی ہے اور آپ سے ویکسینیشن سائٹ پر اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔

COVID-19 ویکسین لگوانا عوامی چارج ضابطہ کے تحت عوامی فائدہ نہیں ہے۔ ویکسین لگوانے سے آپ پر یا آپ کے اہل خانہ کی ترک وطن کی درخواست پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

عمر کی پابندیاں اور بچوں کیلئے دستیابی

16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔

16 اور 17 سال کے لوگوں کو صرف Pfizer ویکسین لگ سکتی ہے، کیونکہ Moderna ویکسین صرف 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لئے منظور کی گئی ہے۔ 16 اور 17 سال کی عمر کے لوگوں کو ویکسین لگانے کے لیے بچے کی منظوری اور والدین کی رضامندی کی ضرورت ہوتی ہے۔

Pfizer اور Moderna نے یہ جاننے کے لیے حال ہی میں مطالعوں کا آغاز کیا ہے کہ آیا ویکسینیں بچوں کے لئے محفوظ ہیں۔ اگر کوئی ویکسین بچوں کے لیے محفوظ اور موثر ثابت ہوتی ہے تو FDA اسے بچوں کو لگانے کی منظوری دے سکتی ہے۔ ایسا 2021 کے وسط سے لے کر سال کے آخر تک ہی ممکن ہو پائے گا۔


طبی ہسٹری اور کلینیکل تحفظات

الرجیاں

زیادہ تر الرجیاں COVID-19 ویکسینیشن کے حوالے سے تشویش کا باعث نہیں ہیں۔ اگر آپ کی الرجک رد عمل کی ہسٹری ہے (جیسے کھانے، اینٹی بائیوٹکس یا منہ سے لی جانے والی دیگر دوا، پالتو جانوروں کی خشکی، زہر، دھول میں موجود کیڑوں، پولن، مولڈ، سگریٹ کے دھوئیں، یا لیٹیکس سے الرجیاں) اور یہ ہسٹری ویکسینوں اور انجیکشن کے ذریعے لگائی جانے والے دوائیوں سے متعلق نہیں ہے یا آپ کے خاندان میں الرجک رد عمل کی ہسٹری ہے تو آپ ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

اگر آپ کی کسی بھی چیز سے شدید الرجک رد عمل (جیسے انفیلیکسس) کی ہسٹری ہے تو ویکسین فراہم کنندہ کو آگاہ کریں تاکہ وہ آپ کی زیادہ قریب سے نگرانی کر سکیں۔

ویکسین لگوانے کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت ان الرجک ردعملوں کی ہسٹری کو مدنظر رکھنا چاہیے:

  • اگر کوئی نگہداشت صحت فراہم کنندہ آپ میں mRNA ویکسین کے کسی بھی جزو (بشمول پولی ایتھیلین گلائکول یا پولی سوربیٹ) کے حوالے سے کسی بھی شدت کے فوری طور پر الرجک رد عمل کی تشخیص کرتا ہے تو آپ کو یہ ویکسین نہیں لگوانی چاہیے۔

  • اگر پہلے COVID-19 شاٹ کے بعد کوئی نگہداشت صحت فراہم کنندہ آپ میں کسی بھی شدت کے فوری طور پر الرجک رد عمل کی تشخیص کرتا ہے تو آپ کو یہ ویکسین نہیں لگوانی چاہیے۔ آپ کا نگہداشت صحت فراہم کنندہ مزید نگہداشت یا مشورے کے لیے آپ کو الرجی اور امیونولوجی کے ماہر کے پاس بھیج سکتا ہے۔

  • اگر آپ کو پہلے کبھی کسی مختلف ویکسین یا انجیکشن سے لگنے والی دوا سے الرجی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو ویکسین لگوانے سے پہلے اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے بات کریں۔ اگر آپ ویکسین لگوانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو شاٹ لگانے والے فراہم کنندہ کو اس حوالے سے آگاہ کر دیں تاکہ وہ بعد میں آپ کی زیادہ قریب سے نگرانی کر سکیں۔

اگر اس وقت COVID-19 کے ساتھ بیمار ہیں

اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ کو اس وقت COVID-19 ہے یا COVID-19 کی علامات ہیں تو آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے اس وقت تک انتظار کرنا چاہئے جب تک کہ آپ تندرست نہ ہو جائیں اور علیحدگی کی مدت مکمل نہ کر لیں، تاکہ آپ کے متعدی ہوتے ہوئے ویکسین لگانے کی سائٹ پر جانے سے دیگر لوگ زد میں نہ آ جائیں۔

اس کا مطلب ہے کہ جب تک کہ درج ذیل تمام باتیں واقع نہ ہو جائیں، آپ کو ویکسین نہیں لگوانی چاہیے:

  • علامات شروع ہوئے کم از کم 10 دن گزر چکے ہیں (یا اگر آپ کو علامات نہیں تھیں تو جس تاریخ کو آپ کا ٹیسٹ ہوا تھا، اس تاریخ کے بعد کم از کم 10 دن گزر چکے ہوں)۔
  • بخار کو کم کرنے والی ادویات استعمال کیے بغیر آپ کو پچھلے 24 گھنٹوں سے بخار نہیں ہوا ہے۔
  • اگر آپ کو علامات تھیں تو اب آپ کی علامات میں بہتری آئی ہے۔

اگر COVID-19 کے ساتھ پہلے بیمار رہ چکے ہیں

ایک سے زیادہ مرتبہ COVID-19 ہو جانا ممکن ہے۔ لہذا، اگر آپ کو پہلے COVID-19 ہو چکا ہے تو بھی آپ کو ویکسین لگوانی چاہیے۔ نیز، ویکسین سے آپ کے جسم میں پہلے سے پیدا ہو جانے والے تحفظ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اگر کسی کو پہلے COVID-19 رہا ہو تو ویکسین لگوانے سے اسے برے رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حالیہ طور پر COVID-19 کی زد میں آنا

اگر آپ حال ہی میں کسی ایسے شخص کے ساتھ قریبی رابطے (24 گھنٹے کے دورانیے میں کم سے کم 10 منٹ کے لئے 6 فٹ سے زیادہ قریب رہنا) میں تھے جس کو COVID-19 ہے تو آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے آخری بار قریبی رابطے میں آنے کے بعد سے 10 دن کے لیے قرنطینہ مکمل کرنے تک انتظار کرنا چاہیے۔

دیگر ویکسینیں

آپ کو اپنی COVID-19 ویکسین کوئی بھی دوسری ویکسین لگوانے سے کم از کم 14 دن پہلے یا 14 دن کے بعد لگوانی چاہیے۔

ہر ایک کو فلو کی ویکسین اور COVID-19 ویکسین، دونوں ہی لگوانی چاہیئں۔

حاملہ ہونا یا چھاتی کا دودھ پلان

حاملہ یا چھاتی کا دودھ پلانے والی خواتین ویکسین لگوانے کا انتخاب کر سکتی ہیں۔

حاملہ خواتین میں COVID-19 ویکسین کے تحفظ کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں، کیونکہ حاملہ خواتین کلینیکل ٹرائلز کا حصہ نہیں تھیں، سوائے ان چند خواتین کے جو حاملہ تھیں اور انھیں یہ معلوم نہیں تھا یا بعد میں حاملہ ہوئی تھیں۔

اسی طرح، چھاتی کا دودھ پلانے والی خواتین کو کلینیکل ٹرائلز میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ COVID-19 چھاتی کے دودھ کے ذریعے منتقل نہیں ہوتا ہے، اور mRNA ویکسینیں چھاتی کا دودھ پینے والے نوزائیدہ بچوں کے لیے خطرہ نہیں سمجھی جاتی ہیں۔

اگر آپ حاملہ ہونے کی کوشش کر رہی ہیں تو آپ ویکسین لگوا سکتی ہیں اور آپ کو ویکسین لگوانے کے بعد حمل سے بچنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر آپ حاملہ ہیں یا چھاتی کا دودھ پلاتی ہیں تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ کے ساتھ ویکسین لگوانے کے حوالے سے بات کریں۔

آٹو امیون بیماری / کمزور مدافعتی نظام (امیونوکمپومائزڈ ) اور بنیادی عوارض

وہ لوگ جنھیں آٹو امیون بیماری ہے یا ان کا مدفعتی نظام کمزور ہے (جیسے کینسر کے علاج یا کسی دوسری دوا کی وجہ سے)، وہ ویکسین لگوانے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ تاہم، وہ لوگ جن کا مدفعتی نظام کمزور ہے وہ کلینیکل ٹرائلز کا حصہ نہیں تھے، لہذا اس گروپ کے لئے ویکسین کے تحفظ حفاظت یا اس کے موثر ہونے سے متعلق کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

عام طور پر، بنیادی صحت کے دائمی اور دیگر طبی عوارض میں مبتلا لوگ ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ جو کلینیکل ٹرائلز کا حصہ تھے ان کو بنیادی صحت کے عوارض درپیش تھے اور انہیں کسے مسئلے کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھآ۔

اگر آپ کو بنیادی صحت کے کسی طبی عارضےٓ کے بارے میں خدشات ہیں، یا اگر آپ کا مدافعتی نظام کمزور ہے تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ کے ساتھ ویکسین لگوانے کے بارے میں بات کریں۔


ویکسین لگوانا

مقامات

کچھ لوگ، جیسے کہ نگہداشت صحت کے بہت سے کارکنان اور فرسٹ رسپانڈرز، اپنے آجر کی جانب سے ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ وہ افراد جو نرسنگ ہوم جیسے گروپ رہائشی سہولت میں رہتے ہیں یا کام کرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر سائٹ پر ہی ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

ویکسینیں کچھ اسپتالوں، کمیونٹی کلینکس اور فارمیسیوں، اور شہر بھر میں سٹی کے زیر انتظام چلنے والی ویکسینیشن سائٹس پر بھی دستیاب ہیں۔ بہت ساری سائٹسں، بشمول سٹی کے زیر انتظام چلنے والی سائٹس، پر اپوائنٹمنٹ درکار ہوتی ہے۔ ویکسین کی فراہمی کے لحاظ سے اپوائنٹمنٹس محدود ہیں، لہذا اگر آپ کو اپوائنٹمنٹس کھلی ہوئی نظر نہ آئیں تو باقاعدگی سے دوبارہ چیک کرتے رہیں۔

ویکسین لگوانے کی سائٹ چیک تلاش کرنے کے لیے:

  • "NYC Vaccine Finder" (NYC ویکسین فائنڈر) ملاحظہ کریں۔ آپ پتہ، زپ کوڈ یا اپنے موجودہ مقام کے لحاظ سے تلاش کر سکتے ہیں۔

  • اگر آپ کو سٹی کے زیر انتظام چلنے والی ویکسینیشن سائٹ پر اپوائنٹمنٹ لینے کے لیے مدد درکار ہو تو877-829-4692 پر کال کریں اور جب کہا جائے تو 1 دبائیں۔

اگر آپ اس وقت ویکسین لگوانے کے لیے اہل نہیں ہیں تو اپوائنٹمنٹ مت لیں۔

ویکسین لگوانے سے قبل تشخیصی / اینٹی باڈی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے

ویکسین لگوانے سے قبل آپ کو COVID-19 انفیکشن کا ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

آپ کو اینٹی باڈی ٹیسٹ کروانے کی بھی ضرورت نہیں ہے، جو یہ چیک کرتا ہے کہ آیا آپ کو ماضی میں COVID-19 ہوا تھا۔ جن لوگوں کو پہلے COVID-19 ہو چکا ہے ان کے لیے ویکسین لگوانا تجویز کیا جاتا ہے چاہے ان کا اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ مثبت ہی کیوں نہ ہو۔ COVID-19 کا دوبارہ ہو جانا ممکن ہے اور ویکسین لگوانا آپ کی قدرتی قوت مدافعت کو بڑھا سکتا ہے۔

ویکسین لگوانے کے لیے کسی قسم کی ادائیگی یا سوشل سیکیورٹی نمبر کی ضرورت نہیں ہے

یہ ویکسین ہر ایک کو بلا معاوضہ فراہم کی جائے گی۔ ویکسین کے لیے آپ کو اپنا سوشل سیکیورٹی نمبر فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

اگر آپ کے پاس صحت بیمہ نہیں ہے تو بھی آپ سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا۔ اگر آپ کے پاس بیمہ ہے تو اپنا بیمہ کارڈ ساتھ لائیں۔ ویکسین فراہم کنندہ کی جانب سے آپ کے بیمے کو بل کیا جا سکتا ہے لیکن آپ سے ویکسین کے لیے ادائیگی میں اپنا حصہ ڈالنے یا کوئی دیگر فیس ادا کرنے کو نہیں کہا جائے گا۔

اگر کوئی آپ سے کسی قسم کی بھی فیس وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے یا آپ کے کریڈٹ کارڈ سے متعلق معلومات طلب کرتا ہے، یا اگر وہ آپ کا سوشل سیکیورٹی نمبر مانگتا ہے تو پھر یہ ممکنہ طور پر کوئی دھوکا دہی یا فراڈ ہے اور آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے کہیں اور چلے جانا چاہیے۔

ویکسین کے حوالے سے دھوکہ دہی یا بدسلوکی کی آن لائن اطلاع NYS اٹارنی جنرل کو دیں۔ اطلاع دینے کے لیے "File a Complaint" (شکایت درج کروائیں) منتخب کریں۔ آپ7226-829-833 پر کال یا stopvaxfraud@health.ny.gov پر ای میل کر کے بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

اہلیت کا ثبوت

ویکسین لگوانے کے لیے آپ کو اہلیت کا ثبوت دکھانا ہو گا۔

ویکسین لگوانے سے قبل، آپ کو آن لائن NYS COVID-19 ویکسین فارم مکمل کرنا ہو گا، جس میں ویکسین لگوانے کے لیے اپنی اہلیت کی خود سے تصدیق کرنا بھی شامل ہے۔

مزید جانیں کہ آپ کو ویکسین لگوانے کے لیے اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے کیا کرنا ہو گا.

اپنی ویکسین کی اپوائنٹمنٹ کے لیے تیاری کرنا

ویکسین لگوانے سے پہلے آپ کو کچھ خاص تیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کو COVID-19 کی کوئی بھی علامت ہے یا طبیعت ٹھیک نہیں محسوس ہو رہی تو اپنی اپوائنٹمنٹ تبدیل کر کے کسی اور دن رکھ لیں۔

اپنی اپوائنٹمنٹ پر جاتے ہوئے چہرے پر نقاب پہننا یاد رکھیں اور یہ چیزیں ساتھ لائیں:

  • بیمہ کارڈ (اگر آپ کے پاس یہ موجود ہے)
  • دستاویزات جن سے یہ دکھایا جا سکے کہ آپ ویکسین لگوانے کے لیے اہل ہیں (جیسے کہ اوپر بیان کی گئی ہیں)
  • اپنا ویکسینیشن کارڈ (صرف دوسری خوراک لگواتے وقت)

ویکسین کس طرح لگائی جاتی ہے

COVID-19 ویکسینیں پٹھوں میں لگنے والی (انٹرا مسکولر) ویکسنیں ہیں۔ یہ بازو پر شاٹ (ٹیکے) کے ذریعے لگائی جاتی ہیں، بالکل اس طرح جیسے فلو، خسرہ، تشنج اور بہت سی دیگر ویکسینوں کے ٹیکے لگتے ہیں۔ Pfizer اور Moderna دونوں ویکسینوں میں ہی دو خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے درمیان کئی ہفتوں کا وقفہ ہوتا ہے۔

ویکسین کا انتخاب کرنا

Pfizer اور Moderna کی ویکسینیں ایک جیسی ہیں اور دونوں محفوظ اور موثر دیکھی گئی ہیں۔ دونوں ہی mRNA ویکسینیں ہیں، ان میں ایک جیسے اجزاء ہیں، دو خوراکوں کی صورت میں لگتی ہیں اور ہلکے سے معتدل ضمنی اثرات پیدا کر سکتی ہیں۔

ان ویکسینوں کے درمیان ایک اہم فرق یہ ہے کہ Pfizer ویکسین 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے اور Moderna ویکسین 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے منظور کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ان ویکسینوں کے درمیان اہم فرق اس حوالے سے ہیں کہ انہیں کس طرح اسٹور اور محفوظ کیا جاتا ہے۔ ویکسینیشن سائٹس میں عام طور پر ان دو میں سے صرف ایک ہی ویکسین دستیاب ہو گی۔

دوسری خوراک لینا

دونوں خوراکیں ایک ہی ویکسین کی ہونی چاہیے۔ اگر آپ Pfizer کی ویکسین لگواتے ہیں تو آپ کو پہلی خوراک لگوانے کے 21 سے 42 دن بعد Pfizer ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی ہو گی۔ اگر آپ Moderna کی ویکسین لگواتے ہیں تو آپ کو پہلی خوراک لگوانے کے 28 سے 42 دن بعد Moderna ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی ہو گی۔ آپ کو دوسری خوراک تجویز کیے گئے وقت سے پہلے نہیں لینی چاہیے۔

اگر آپ تجویز کردہ وقت کے دوران اپنا دوسرا شاٹ نہیں لگوا سکے تو جتنی جلدی ممکن ہو اسے اب لگوا لیں۔ چاہے جتنا بھی وقت گزر چکا ہو، آپ کو پھر بھی دوسرا شاٹ لگوانا چاہیے۔ اگر آپ اپنا دوسرا شاٹ تجویز کردہ وقت کے بعد لگواتے ہیں تو بھی آپ کو کل دو شاٹس ہی درکار ہوں گے۔

نیویارک اسٹیٹ لوگوں سے درکار کرتی ہے کہ وہ اپنی پہلی خوراک اور دوسری خوراک ایک ہی جگہ سے لگوائیں۔

ویکسینشن کارڈ

اپنی پہلی خوراک حاصل کرنے کے بعد آپ کو ایک کارڈ موصول ہو گا جس پر مندرجہ ذیل معلومات درج ہوں گی: آپ کا نام، تاریخ پیدائش، آپ کو لگنے والی ویکسین کا نام، ویکسین لگنے کی جگہ اور تاریخ۔ آپ کا ویکسینیشن کارڈ ایک اہم طبی ریکارڈ ہے۔ اسے محفوظ جگہ پر رکھیں اور اس کی فوٹو کاپی کروا لیں یا تصویر لے لیں تاکہ آپ کا کارڈ گم جانے کی صورت میں یہ کام آئیں۔

جب آپ ویکسین کی دوسری خوراک لگوانے جائیں تو اسے اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ اگر آپ اپنا کارڈ ساتھ لانا بھول جاتے ہیں یا یہ گم جاتا ہے تو آپ پھر بھی ویکسین لگوا سکیں گے۔ ویکسین کا فراہم کنندہ آپ کی پہلی ویکسین کی تصدیق کے لیے کمپیوٹر میں آپ کا نام تلاش کر سکتا ہے۔

اپنا کارڈ کھو دینے کی صورت میں آپ "Citywide Immunization Registry" (سٹی بھر میں ویکسین کے ٹیکے لگوانے کی رجسٹری) سے ویکسینیشن کا ثبوت حاصل کر سکتے ہیں۔ رجسٹری میں NYC میں لوگوں کو ویکسین لگانے کے ریکارڈ موجود ہیں۔ اس میں NYC کے رہائشیوں کو سٹی سے باہر ویکسین لگنے کے بھی کچھ ریکارڈ موجود ہیں۔

اگر آپ کے پاس IDNYC کارڈ ہے تو آپ "My Vaccine Record " (میرا ویکسین ریکارڈ) پر اپنے ویکسین لگوانے کے ریکارڈ (اور اپنے نابالغ بچوں کے ریکارڈ) تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس IDNYC کارڈ نہیں ہے تو آپ کا نگہداشت صحت فراہم کنندہ آپ کے ریکارڈز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور دستاویزات کا پرنٹ فراہم کر سکتا ہے۔

ممکنہ ضمنی اثرات

زیادہ تر لوگوں نے ویکسینوں کے کچھ ضمنی اثرات کی اطلاع دی ہے، جو عام طور پر اس بات کی علامت ہیں کہ جسم میں تحفظ پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ عام ضمنی اثرات میں اس بازو میں سوزش یا سوجن جس پر ٹیکہ لگا تھا، سر درد، جسم میں درد، تھکاوٹ اور بخار شامل ہیں۔ جب تک کہ آپ کا فراہم کنندہ آپ کو دوسرا شاٹ (ٹیکہ) لگوانے سے منع نہ کر دے، دوسرا شاٹ لگوائیں چاہے آپ کو پہلے شاٹ کے بعد ضمنی اثرات کا سامنا ہوا ہو۔

ضمنی اثرات:

  • عام طور پر ہلکے سے لے کر معتدل ہوتے ہیں
  • عام طور پر ویکسین لگوانے کے بعد تین دن کے اندر شروع ہوتے ہیں (ویکسین لگوانے کے اگلے دن زیادہ عام ہیں) اور شروع ہونے کے بعد تقریبا ایک سے دو دن تک جاری رہتے ہیں
  • دوسری خوراک کے بعد زیادہ عام ہیں
  • عمر رسیدہ افراد میں کم عام ہیں

کچھ علامات، جیسے کھانسی، سانس میں دشواری، گلے میں خراش اور چکھنے یا سونگھنے کی حس میں کمی، ویکسین کا رد عمل نہیں ہیں۔ ان علامات کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو ویکسین لگوانے سے قبل یا اس کے فوری بعد COVID-19 یا کوئی اور انفیکشن ہو گیا تھا۔ اگر آپ میں سے ان میں سے کوئی ایک علامت ہے تو آپ کو COVID-19 کا ٹیسٹ کروانا چاہیے، کام اور اسکول کے لیے گھر رہنا چاہیے، اپنی صحت کی نگرانی کرنی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ سے رابطہ کرنا چاہیے۔

آپ کو ویکسین سے COVID-19 حاصل نہیں ہو سکتا۔

ضمنی اثرات کا خیال رکھنا

ٹیکہ لگنے کی جگہ پر درد یا سوجن کو کم کرنے کے لیے، اس جگہ پر ایک صاف ستھرا، ٹھنڈا، گیلا کپڑا رکھیں اور اپنے بازو کو حرکت دیں یا اس سے ہلکی ورزش کریں۔ اگر آپ کو کوئی ایسے ضمنی اثرات کا سامنا ہے جن کے حوالے سے آپ کو تشویش ہے یا یہ کچھ دن گزرنے کے بعد ختم نہیں ہوئے، یا اگر آپ کے اس بازو میں سرخی یا سوزش 24 گھنٹوں کے بعد بڑھ گئی ہے جس پر ٹیکہ لگا تھا تو اپنے نگہداشت صحت فراہم کنندہ کو کال کریں۔

درد یا تکلیف کو کم کرنے کے لیے آپ اپنے فراہم کنندہ سے بغیر نسخے کے ملنے والی ادویات استعمال کرنے کے حوالے سے بھی بات کر سکتے ہیں، جیسے کہ ایسیٹامینوفن (Tylenol) یا آئبپروفن (Advil)۔

ضمنی اثرات کی اطلاع دینا

ضمنی اثرات کی اطلاع دینا اس حوالے سے مددگار ہوتا ہے کہ صحت عامہ کے ماہرین اس طرح ویکسین کے اثرات کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ یہ خاص طور پر نئی ویکسین کے لیے اہم ہے۔ آپ ضمنی اثرات کی اطلاع CDC کی V-safe اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے دے سکتے ہیں۔ آپ ضمنی اثرات کی اطلاع CDC اور FDA کے ویکسین کے منفی اثرات کی پرورٹنگ کا سسٹم (VAERS) پر یا 800-822-7967 پر کال کر کے دے سکتے ہیں۔

الرجک رد عمل کم عام ہیں

ابھی تک جو ہم جان پائے ہیں اس کے مطابق ویکسین سے الرجک رد عمل ہونا عام نہیں ہے۔

عام طور پر الرجک ردعمل ٹیکہ لگوانے کے بعد چند منٹ سے ایک گھنٹے میں شروع ہو جاتے ہیں۔ شدید الرجک رد عمل کی علامتوں میں سانس لینے میں دشواری، چہرے یا گلے پر سوجن، دل کی تیز دھڑکن، سارے جسم پر شدید سرخ دھبے بن جانا، چکر آنا اور کمزوری شامل ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ کو لگے کہ آپ کو شدید الرجک ردعمل کا سامنا ہے تو 911 پر کال کریں یا قریبی اسپتال میں جائیں۔


ویکسین لگوانے کے بعد

تحفظ کا آغاز کب ہوتا ہے

جبکہ آپ کو پہلی خوراک کے بعد کچھ تحفظ حاصل ہو سکتا ہے، ویکسینیں دو خوراکوں کے بعد زیادہ موثر ہوتی ہیں۔ آپ کو ویکسین کا مکمل تحفظ دوسری خوراک لگوانے کے ایک سے دو ہفتے بعد ہی حاصل ہو گا۔

COVID-19 ٹیسٹ کے نتائج

ویکسینوں کی وجہ سے لوگوں کا COVID-19 کا تشخیصی (وائرل) ٹیسٹ مثبت نہیں آتا۔ تاہم، ویکسین کی وجہ سے آپ کا اینٹی باڈی ٹیسٹ مثبت آ جانا ممکن ہے، کیونکہ ویکسین کے کام کرنے کا ایک عنصر یہ بھی ہے کہ آپ کے جسم کو COVID-19 کا سبب بننے والے وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرنا سکھایا جائے۔

احتیاطی تدابیر جاری رکھیں

ہمیں اس وقت تک محتاط رہنے کی ضرورت ہے جب تک کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین نہیں لگ جاتی اور جب تک ہم COVID-19 کے پھیلاؤ پر ویکسینوں کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے مزید وقت صرف نہیں کر لیتے۔ اس لیے، ویکسین لگوا لینے کے بعد بھی آپ کو روک تھام کے اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔

  • اگر آپ بیمار ہیں یا حال ہی میں آپ کا COVID-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا تو گھر پر ہی رہیں۔
  • دوسروں سے کم از کم 6 فٹ کے فاصلے پر رہیں۔
  • چہرے پر نقاب پہنیں۔
  • اپنے ہاتھ اکثر دھوئیں۔

طبی اور ذاتی معلومات کا محفوظ

آپ کی ذاتی معلومات سختی سے محفوظ رکھی جاتی ہیں۔ آپ کے بارے میں بنیادی معلومات (جیسے آپ کا نام، پتہ، فون نمبر، تاریخ پیدائش، ویکسین لگوانے کی تاریخ اور ویکسین کا نام) NYC کے محکمہ صحت کے ساتھ قانون کے مطابق شیئر کی جائیں گی، لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت قوانین موجود ہیں کہ آپ کی معلومات رازدارانہ رکھی جائیں۔ آپ کا سوشل سیکیورٹی نمبر نہ لیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی سے شیئر کیا جاتا ہے، اور نہ ہی تارک وطن کی حیثیت کا پتہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی یہ کسی سے شیئر کی جاتی ہے۔

نیویارک سٹی محکمہ صحت سے درکار کیا گیا ہے کہ یہ ویکسینیشن کا ڈیٹا CDC کو بھیجے۔ صرف لوگوں کی تاریخ پیدائش، زپ کوڈ، نسل، قومیت اور صنف کا اشتراک CDC کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہم آپ کے نام سمیت کسی اور ذاتی شناخت کی معلومات کا اشتراک نہیں کریں گے۔


ویکسینیشن کے تقاضے

حکومت اور آجر

حکومت کی جانب سے ایسے کوئی تقاضے نہیں ہیں کہ آپ ویکسین لگوائیں۔

ہم نہیں جانتے کہ ویکسین لگوانے کے حوالے سے آجر کیا تقاضا کر سکتے ہیں۔

اسکول

ویکسینیں فی الحال بچوں میں استعمال کے لیے منظور نہیں کی گئیں (سوائے Pfizer ویکسین کے جو 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو دی جا سکتی ہے)، لہذا اسکول کے لیے ان کا تقاضا نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ اگر ویسکینیں بچوں کے لئے منظور ہو جاتی ہیں تو اسکول جانے کے لیے اس حوالے سے کیا درکار کیا جائے گا۔

اضافی وسائل